کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 68
ابن ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زکاۃلینے پر عامل مقرر کیا۔جب میں فارغ ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک زکاۃپہنچائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔میں نے کہا ’’میں نے تو یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے اور میرا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے ۔انہوں نے کہا’’جو تو دیا جائے اسے لے لے۔میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہی کام کیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے معاوضہ ادا کیا تو میں نے بھی وہی کہا جو تو نے کہا ہے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب کوئی چیز بن مانگے دیئے جاؤ تو اسے کھاؤ اور صدقہ بھی کرو ۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:90 فقراء اور مساکین زکاۃکے مستحق ہیں۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَ مُعَاذًا رضی اللہ عنہ اِلَی الْیَمَنِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ’’ اِنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِیْ اَمْوَالِہِمْ تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِہِمْ‘‘ ۔(مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ واللفظ لِلْبُخَارِیُّ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذرضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر زکاۃفرض کی ہے جو دولت مندوں سے لے کر فقراء کو دی جائے گی۔‘‘اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے ،حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ وضاحت : زکاۃکے مستحق مسکین اور فقیر کی تعریف کے لئے مسئلہ نمبر139 ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ نمبر:91 مصیبت زدہ ،مقروض اور ضمانت بھرنے والوں کی مدد کے لئے زکاۃدینا جائز ہے۔ عَنْ قَبِیصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْہِلَالِیِّ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُہُ فِیہَا، فَقَالَ: أَقِمْ حَتَّی تَأْتِیَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَکَ بِہَا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ’’ یَا قَبِیصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ، تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی یُصِیبَہَا، ثُمَّ یُمْسِکُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْہُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَہُ، فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ - وَرَجُلٌ أَصَابَتْہُ فَاقَةٌ حَتَّی یَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَا مِنْ قَوْمِہِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ - فَمَا سِوَاہُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ یَا قَبِیصَةُ سُحْتًا یَأْکُلُہَا صَاحِبُہَا سُحْتًا‘‘(رَوَاہُ مُسْلِمٌ)