کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 69
قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ضامن بنا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ہمارے پاس ٹھہر ،یہاں تک کہ صدقہ آئے، ہم اس میں سے تم کو دلوا دیں گے،پھر فرمایا’’اے قبیصہ رضی اللہ عنہ ! مانگنا حلال نہیں ہے،مگر تین آدمیوں کو۔ایک وہ جس نے ضمانت اٹھائی۔پس اس کے لئے سوال کرنا درست ہے،یہاں تک کہ ضمانت ادا ہو جائے پھر وہ سوال کرنے سے رک جائے،دوسرا وہ آدمی جس کو کوئی آفت پہنچی اور اس کا مال و اسباب ہلاک ہو گیا،تو اس کے لئے سوال کرنا درست ہے،یہاں تک کہ اسے اتنا مل جائے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے یا فرمایا جو اس کی حاجت مندی کو دور کر دے اور تیسرا وہ شخص کہ اس کو سخت فاقہ پہنچے،یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معقول آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کو سخت فاقہ پہنچا ہے،پس اس کے لئے مانگنا درست ہے،یہاں تک کہ اسے اتنا مل جائے کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے یا فرمایا حاجت مندی کو دور کرے اے قبیصہ ؓ !ان تین صورتوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے، اور ایسا سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ : أُصِیبَ رَجُلٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا، فَکَثُرَ دَیْنُہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’تَصَدَّقُوا عَلَیْہِ‘‘، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ، فَلَمْ یَبْلُغْ ذَلِکَ وَفَاءَ دَیْنِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِہِ:’’خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَیْسَ لَکُمْ إِلَّا ذَلِکَ‘‘( رَوَاہُ مُسْلِمٌ) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کو ان پھلوں میں نقصان پہنچا جو اس نے خریدے تھے۔پس وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اسے صدقہ دو۔لوگوں نے اسے صدقہ دیا،لیکن صدقہ سے اس کا قرض پورا نہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو ملتاہے لے لو،اس کے سوا تمہارے لئے کچھ نہیں ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔