کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 72
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’صدقہ آدمی کے لئے حلال نہیں مگر اس آدمی کے لئے جواللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلا ہوا ہو یا مسافر کے لئے یا جو پڑوسی فقیر پر صدقہ کیا گیا اور اس نے کسی غنی آدمی کو(ہدیہ کے طور پر دے دیا ) یا اس کی دعوت کی یعنی (غنی کو فقیر کا ہدیہ یا دعوت قبول کرنا جائز ہے خواہ وہ ہدیہ اور دعوت زکاۃکے مال سے کی گئی ہو۔)‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:96 زکاۃصرف مسلمانوں کو دینی جائز ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ مُعَاذًا رضی اللہ عنہ قَالَ : بَعَثَنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ’’اِنَّکَ تَأْتِیْ قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ اَنْ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ فِیْ فُقَرَائِہِمْ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاِیَّاکَ وَ کَرَائِمُ اَمْوَالِہُمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہٗ لَیْسَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ ‘‘(رَوَاہُ مُسْلِمٌ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کویمن بھیجا تو فرمایا’’تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو انہیں توحید و رسالت کی دعوت دو،اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر دن رات میں پنجگانہ نماز فرض کی ہے۔اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر زکاۃفرض کی ہے جو کہ تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے محتاجوں کو دی جائے گی۔اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو خبردار ان کے نفیس مال نہ لینا،اور مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا،کیونکہ اس کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا ہے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے