کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 74
مَــنْ لاَّ تَحـِــــلُّ لَـــہُ الــــزَّکَاۃُ زکاۃکے غیر مستحق لوگ مسئلہ نمبر:98 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے زکاۃحلال نہیں۔ مسئلہ نمبر:99 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آل ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم مال زکاۃسے بالاتر ہیں۔ عَنْ اَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِتَمْرَۃٍ فِی الطَّرِیْقِ ، قَالَ ’’لَوْ لاَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الصَّدَقَۃِ لَاَکَلْتُہَا ‘‘(مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ) حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ایک کھجور (گری ہوئی)نظر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا’’اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ کھجور صدقہ کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔ ‘‘ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: أَخَذَ الحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَہَا فِی فِیہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’کِخْ کِخْ‘‘ لِیَطْرَحَہَا، ثُمَّ قَالَ: ’’أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لاَ نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ‘‘(مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجوروں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’دور کر،دور کر،اسے پھینک دے ۔‘‘پھر فرمایا’’کیا تو جانتا نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔‘‘اسے بخاری اورمسلم نے روایت کیا ہے۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’إِنَّ ہَذِہِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا ہِیَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّہَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ‘‘(رَوَاہُ مُسْلِمٌ)