کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 75
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ صدقات لوگوں کی میل ہیں اور بے شک یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال نہیں ہے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے وضاحت : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات،آل علی رضی اللہ عنہ آل عقیل رضی اللہ عنہ،آل جعفر رضی اللہ عنہ آل عباس رضی اللہ عنہ اور آل حارث رضی اللہ عنہ سب شامل ہیں۔ مسئلہ نمبر:100 غیر مسلم کو زکاۃدینا جائز نہیں ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَ مُعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ’’فَأَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِیْ اَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ وَ تُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِہِمْ ‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا (تو فرمایا)’’لوگوں کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مالوں میں صدقہ فرض کیا ہے جو مسلمانوں کے اغنیاء سے لیا جائے گا اور ان کے فقیروں کو دیا جائے گا۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:101 غنی اور تندرست آدمی کے لئے زکاۃجائز نہیں ہے۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم’’لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ وَ لاَ لِذِی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ ‘‘(رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ) (صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’زکاۃغنی اور تندرست آدمی کے لئے حلال نہیں ہے ۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:102 والدین کو زکاۃدینا جائز نہیں ہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ لِیْ مَالاً وَ وَلَدًا وَ اِنَّ وَالِدِیْ یَحْتَاجُ مَالِیْ قَالَ’’أَنْتَ وَ مَالُکَ لِوَالِدِکَ اِنَّ اَوْلاَدَکُمْ مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ اَوْلاَدِکُمْ ‘‘( رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَابْنُ مَاجَہْ)(صحیح)