کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 76
حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ ’’میں صاحب مال ہوں اور میرا باپ میرے مال کا محتاج ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے ۔‘‘نیز فرمایا ’’اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے اپنی اولاد کی کمائی سے کھاؤ ۔‘‘اسے ابوداؤد اورابن ماجہ نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:103 اولاد کو زکاۃدینا جائز نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر:104 بیوی کو زکاۃدینا جائز نہیں ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ : اَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالصَّدَقَۃِ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عِنْدِیْ دِیْنَارٌ فَقَالَ ’’ تَصَدَّقْ بِہٖ عَلٰی نَفْسِکَ ‘‘ قَالَ : عِنْدِیْ آخَرُ ، قَالَ ’’تَصَدَّقْ بِہٖ عَلٰی وَلَدِکَ ‘‘ قَالَ : عِنْدِیْ آخَرُ ، قَالَ ’’ تَصَدَّقْ بِہٖ عَلٰی زَوْجَتِکَ ‘‘ اَوْ قَالَ : زَوْجِکَ، قَالَ : عِنْدِیْ آخَرُ ، قَالَ’’ تَصَدَّقْ بِہٖ عَلٰی خَادِمِکَ ‘‘ قَالَ : عِنْدِیْ آخَرُ ، قَالَ ’’أَنْتَ اَبْصَرُ ‘‘( رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَالنِّسَائِیُّ) (حسن) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ ’’میرے پاس ایک دینار ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اسے اپنے آپ پر خرچ کر ۔‘‘کہنے لگا ’’میرے پاس ایک اور ہے۔ ‘‘فرمایا’’اپنے بیٹے پر خرچ کر۔‘‘ کہنے لگا ’’میرے پاس ایک اور ہے ۔‘‘فرمایا’’اسے اپنی بیوی پر خرچ کر ۔‘‘کہنے لگا’’میرے پاس ایک اور ہے ۔‘‘فرمایا’’اپنے خادم پر خرچ کر ۔‘‘ کہنے لگا ’’میرے پاس ایک اور ہے ۔‘‘فرمایا’’اب تو زیادہ جانتا ہے۔(جہاں چاہے خرچ کر)‘‘اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : جن قرابت داروں کا نفقہ آدمی کے ذمہ واجب ہے۔ان کوزکاۃدینا جائز نہیں ہے۔مثلاً ماں باپ، دادا، پڑدادا، بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ اور بیوی۔