کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 78
مسئلہ نمبر:106 بے جا سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر91 کے تحت ملاحظہ فرمائیں مسئلہ نمبر:107 مال جمع کرنے کے لئے مانگنا آگ کے انگارے جمع کرنا ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’مَنْ سَأَلَ النَّاسَ اَمْوَالَہُمْ تَکَثُّرًا فَاِنَّمَا یَسْأَلُ جَمْرًا فَلْیَسْتَقِلَّ اَوْ لِیَسْتَکْثِرْ ‘‘( رَوَاہُ مُسْلِمٌ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو آدمی لوگوں سے ان کے اموال اس لئے مانگتا ہے کہ اپنا مال بڑھائے پس وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے اب چاہے تو کم مانگے چاہے تو زیادہ مانگے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:108 بے جا سوال کرنے والے کا سوال قیامت کے دن اس کے منہ پر زخم کی مانند نظر آئے گا۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم’’مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَ لَہٗ مَایُغْنِیْہِ جَائَ تْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خُمُوْشٌ اَوْ خُدُوْشٌ اَوْ کُدُوْحٌ فِیْ وَجْہِہٖ ‘‘ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم! وَ مَاالْغِنٰی ؟ قَالَ ’’خَمْسُوْنَ دِرْہَمًا اَوْ قِیْمَتُہَا مِنَ الذَّہَبِ‘‘(رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ) (صحیح) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’جس نے امیری کے باوجود لوگوں سے مانگا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا سوال اس کے منہ پر چھلے ہوئے زخم کا نشان بنا ہو گا ۔‘‘آپ سے کہا گیا کہ’’کتنی چیز غنی کرتی ہے ؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پچاس درہم یااس کی قیمت کا سونا ۔‘‘اسے ابوداؤد،ترمذی ،نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : پچاس درہم قریبا 17تولہ چاندی کے برابر ہوتے ہیں۔