کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 79
صَـــدَقَــــۃُ الْفِـــطْـرِ صدقۂ فطر کے مسائل مسئلہ نمبر:109 صدقۂ فطر فرض ہے۔ مسئلہ نمبر:110 صدقہ فطر کا مقصد روزے کی حالت میں سرزد ہونے والے گناہوں سے خود کو پاک کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر:111 صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کرنا چاہئے ورنہ عام صدقہ شمار ہوگا۔ مسئلہ نمبر:112 صدقہ ٔ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکاۃ کے مستحق ہیں۔ عَنِ ابْنِ عباس رضی اللہ عنہ قَالَ : فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُہْرَۃً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَ طُعْمَۃً لِلْمَسَاکِیْنِ فَمَنْ اَدَّاہَا قَبْلَ الصَّلاَۃِ ،فَہِیَ زَکَاۃٌ مَقْبُوْلَۃٌ ، وَ مَنْ أَدَّاہَا بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَہِیَ صَدَقَۃٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ ۔’’ رَوَاہُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَۃَ)  (صحیح) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ،روزے دار کو بیہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے لئے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے فرض کیا ہے۔ جس نے نماز عید سے پہلے ادا کیا اس کا صدقہ فطر ادا ہو گیا اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا اس کا صدقہ فطر عام صدقہ شمار ہوگا ۔‘‘ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:113 صدقۂ فطرکی مقدار ایک صاع ہے ، جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے۔ مسئلہ نمبر:114 صدقۂ فطرہرمسلمان غلام ہو یا آزاد ، مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا، روزہ