کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 8
کے رب کے پاس ہے ،اور ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔‘‘ (سورہ بقرہ، آیت نمبر277) ادائیگی زکاۃگناہوں کا کفارہ اور بلندی درجات کا بہت بڑاذریعہ ہے۔اللہ کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیاہے۔ { خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـةً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا}(التوبہ:103) ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان کے اموال سے زکاۃلو تاکہ ان کوگناہوں سے پاک کرو اور ان کے (درجات) بلند کرو۔‘‘ زکاۃاداکرنے سے نہ صرف گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے مال میں اضافہ کرنے کا وعدہ بھی کررکھا ہے ۔ سورہ روم میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: { ۚ وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ](الروم:39) ’’اور جوزکاۃتم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دیتے ہو،اس سے دینے والے ہی اپنے مال میں اضافہ کرتے ہیں‘‘۔ لفظ ’’زکاۃ‘‘کا لغوی مفہوم پاکیزگی اور اضافہ ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پہلے مفہوم کے مطابق اس عبادت سے انسان کا مال حلال اورپاک بنتاہے اور نفس بھی تمام گناہوں اور برائیوں سے پاک ہو جاتاہے ۔دوسرے مفہوم کے مطابق زکاۃ اداکرنے سے نہ صرف مال میں اضافہ ہوتاہے ،بلکہ اجروثواب میں بھی اضافہ ہوتاہے ۔ ادائیگی زکاۃکے ان فوائد کے ساتھ ساتھ ایک نظر زکاۃادانہ کرنے کے نقصانات پر بھی ڈالنی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ حٰم سجدہ میں زکاۃادانہ کرنے کو کفر اور شرک کی علامت قرار دیاہے۔ { وَوَیْلٌ لِّـلْمُشْرِکِیْنَ Č۝ۙالَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَةِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ](حم سجدہ:6-7) ’’تباہی ہے ان مشرکوں کے لئے جو زکاۃادانہیں کرتے اور آخرت کاانکار کرتے ہیں۔‘‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ’’زکاۃادانہ کرنے والوں کا مال و دولت تباہ برباد