کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 82
صَدَقَــــۃُ التَّطَــــــوُّعِ نفلی صدقہ مسئلہ نمبر:119 حرام مال سے دی گئی زکاۃیا صدقہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ ’’اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لاَ یَقْبَلُ صَلاَۃً بِغَیْرِ طُہُوْرٍ وَ لاَ صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ ‘‘( رَوَاہُ النِّسَائِیُّ) (صحیح) حضرت اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز اور حرام مال سے صدقہ قبول نہیں فرماتا ۔‘‘اسے نسائی نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:120 حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر دیا گیا صدقہ بھی اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر:121 حلال کمائی سے کئے گئے معمولی صدقہ کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر دیتے ہیں۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم’’ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَ لاَ یَقْبَلُ اللّٰہُ اِلاَّ الطَّیِّبَ وَ اِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُہَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْہَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ اَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ‘‘( رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو کوئی ایک کھجور کے برابر بھی حلال کمائی سے صدقہ کرے،اور اللہ تعالیٰ حلال کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔(حلال کمائی سے کیا گیا صدقہ)اللہ تعالیٰ دائیں ہاتھ میں لیتا ہے پھر اس کے مالک کے لئے اسے پالتا (بڑھاتا)رہتا ہے ،