کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 83
جس طرح کوئی تم میں سے اپنا بچھیرا پالتا ہے یہاں تک کہ وہ(صدقہ)پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:122 صدقہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کا باعت بنتا ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ بَیْنَا رَجُلٌ بِفَلَاۃٍ مِنَ الْاَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِیْ سَحَابَۃٍ اسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلاَنٍ فَتَنَحّٰی ذٰلِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَائَ ہٗ فِیْ حَرَّۃٍ فَاِذَا شَرْجَۃٌ مِنْ تِلْکَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذٰلِکَ الْمَائَ کُلُّہٗ فَتَتَبَّعَ الْمَائَ فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِیْ حَدِیْقَتِہٖ یُحَوِّلُ الْمَائَ بِمِسْحَاتِہٖ فَقَالَ لَہٗ: یَا عَبْدَاللّٰہِ ! مَا اسْمُکَ ؟ قَالَ : فُلاَنٌ لِلْاِسْمِ الَّذِیْ سَمِعَ فِی السَّحَابَۃِ ، فَقَالَ لَہٗ : یَا عَبْدَاللّٰہِ ! لِمَ تَسْأَلُنِیْ عَنْ اِسْمِیْ ؟ فَقَالَ : اِنِّیْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِیْ ہٰذَا مَاؤٗہُ یَقُوْلُ اسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلاَنٍ لِاِسْمِکَ فَمَا تَصْنَعُ فِیْہَا، قَالَ :’’ اَمَّا اِذْ قُلْتَ ہٰذَا فَاِنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی مَا یَخْرُجُ مِنْہَا فَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہٖ وَ آکُلُ اَنَا وَ عِیَالِیْ ثُلُثًا وَاَرُدُّ فِیْہَا ثُلُثَہٗ ‘‘(رَوَاہُ مُسْلِمٌ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ایک شخص جنگل میں کھڑا تھا اس نے بادل سے آواز سنی (کسی نے آواز دی)کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ چنانچہ بادل ایک طرف چلا اور اپنا پانی ایک سنگلاخ زمین پر انڈیل دیا اچانک نالیوں میں سے ایک نالے نے سارا پانی جمع کر لیاوہ آدمی پانی کے پیچھے چلا۔دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہے اور اپنے بیلچے سے پانی ادھر ادھر تقسیم کر رہا ہے۔اس آدمی نے کہا’’اللہ کے بندے تمہارا کیا نام ہے؟‘‘ اس نے کہا ’’فلاں۔‘‘ وہی نام جو اس نے بادل سے سنا تھا۔پھر اس نے دریافت کیا کہ’’اے اللہ کے بندے!تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟‘‘ اس نے کہا’’کہ میں نے اس بادل سے ،جس کا یہ پانی ہے آواز سنی تھی کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا اور تیرا نام لیا(میں جاننا چاہتا ہوں)تو اپنے باغ میں کیا کرتا ہے؟‘‘ اس نے کہا ’’جب تو نے پوچھا ہے تو میں بتا دیتا ہوں،کہ جو کچھ میرے باغ میں پیدا ہوتا ہے،اس کا تہائی حصہ صدقہ کر دیتاہوں اور ایک تہائی سے میں اور میرا عیال کھاتا ہے اور ایک تہائی اس باغ میں لگادیتا ہوں ۔اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔