کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 90
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ نے فرمایا’’صدقہ کرو اگر چہ اپنے زیوروں سے ہو۔‘‘اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پر اور کچھ یتیموں پر جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں۔انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو ’’ اگر میں اپنا صدقہ اپنے خاوند اور چند یتیم بچوں کو جو میری پرورش میں ہیں، دے دوں تو کیا درست ہے؟‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا’’تم خود ہی جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لو۔‘‘ آخر حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔وہاں ایک انصاری عورت کو دروازے پر پایا۔وہ بھی میرے جیسا مسئلہ پوچھنے آئی تھی۔اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے نکلے،ہم نے ان سے کہا ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو ’’اگر میں اپنے خاوند اور چند یتیموں کو جو میری پرورش میں ہیں زکاۃدوں تو کیا درست ہے؟‘‘ ہم نے کہہ دیا کہ ہمارا نام نہ لینا ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’دو عورتیں یہ مسئلہ پوچھتی ہیں ‘‘۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کون سی عورتیں؟‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا ’’زینب نامی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کون سی زینب؟‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’بے شک درست ہے اور ان کو دو گنا ثواب ملے گا ایک تو قرابت داری کا اجر اور دوسرا زکاۃکا اجر ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:140 اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کو زکاۃدینا افضل ہے۔ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ’’ اِنَّ الصَّدَقَۃَ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ وَ عَلٰی ذِی الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَۃٌ وَصِلَۃٌ‘‘( رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ النِّسَائِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ) (صحیح) حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مسکین کو زکاۃدینا اکہرا ثواب ہے اور رشتہ دارکو زکاۃدینا دوہرا ثواب ہے ،ایک زکاۃکا اور دوسرا صلہ رحمی کا ۔‘‘اسے ترمذی،نسائی اور ابن