کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 92
وضاحت : عزیز و اقارب اور رشتہ داروں میں سے والدین اور اولاد مستثنیٰ ہے۔انہیں زکاۃنہیں دی جا سکتی۔ملاحظہ ہو مسئلہ نمبر103-102 مسئلہ نمبر:142 زکاۃکے مستحق مسکین کی تعریف۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ’’لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ یَطُوْفُ عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلٰکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الَّذِیْ لاَ یَجِدُ غِنًی یُغْنِیْہِ وَ لاَ یُفْطَنُ لَہٗ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ وَ لاَ یَقُوْمُ فَیَسْأَلُ النَّاسَ‘‘( رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس گھومتا رہتا ہے،ایک لقمہ یا دو لقمہ ایک کھجور یا دو کھجور کی خواہش اسے در بدر لئے پھرتی ہے بلکہ (درحقیقت مسکین وہ ہے جس کو اتنی دولت نہیں ملتی جو اسے مانگنے سے)بے پرواہ کر دے نہ ہی کوئی اس کا حال جانتا ہے کہ اسے صدقہ دے۔نہ ہی وہ کسی سے سوال کرنے کو نکلتا ہے ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:143 دوسروں سے سوال نہ کرنے والے کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’مَنْ یَکْفَلُ لِیْ اَنْ لاَ یَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئًا فَاَتَکَفَّلُ لَہٗ بِالْجَنَّۃِ‘‘ فَقَالَ : ثَوْبَانُ اَنَا، فَکَانَ لاَ یَسْأَلُ اَحَدًا شَیْئًا ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ) (صحیح) حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص میرے ساتھ عہد کرے کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے گا تو میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں ۔‘‘حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا’’میں عہد کرتا ہوں ۔‘‘چنانچہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کسی سے کچھ نہ مانگتے تھے۔اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:144 آل ہاشم کے کسی فرد یا ان کے کسی غلام کو زکاۃوصول کرنے پر عامل مقرر نہیں کرنا چاہئے۔ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَی الصَّدَقَۃِ مِنْ بَنِیْ مَخْزُوْمٍ فَقَالَ لِاَبِیْ رَافِعٍ اَصْحَبْنِیْ فَاِنَّکَ تُصِیْبُ مِنْہَا قَالَ : حَتّٰی اُتِیَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَسْأَلَہٗ فَأَتَاہُ فَسْأَلَہٗ فَقَالَ ‘‘مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ‘‘( رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ) (صحیح)