کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 96
’’جس نے کسی بچے کی پرورش کی حتی کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگے،اللہ تعالیٰ اس سے حساب نہیں لے گا۔‘‘ وضاحت : یہ حدیث ضعیف ہے ۔بحوالہ سابق حدیث نمبر 208 (7) اِنَّ السَّخِیَّ قَرِیْبٌ مِنَ النَّاسِ قَرِیْبٌ مِنَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِنَ الْجَنَّۃِ بَعِیْدٌ مِنَ النَّارِ وَ اِنَّ الْبَخِیْلَ بَعِیْدٌ مِنَ اللّٰہِ بَعِیْدٌ مِنَ النَّاسِ بَعِیْدٌ مِنَ الْجَنَّۃِ قَرِیْبٌ مِنَ النَّارِ وَالْفَاجِرُ السَّخِیُّ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیْلٍ ’’سخی آدمی لوگوں کے قریب ہے۔اللہ تعالیٰ اور جنت کے قریب ہے۔آگ سے دور ہے۔جبکہ بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ہے۔لوگوں سے دور ہے ،جنت سے دور ہے۔آگ کے قریب ہے اور فاجر سخی اللہ تعالیٰ کو بخیل عابد سے زیادہ پسند ہے۔ وضاحت : یہ حدیث ضعیف ہے ۔بحوالہ سابق حدیث نمبر 211 (8) اَلْجَنَّۃُ دَارُ الْاَسْخِیَائِ ’’جنت سخی لوگوں کا گھر ہے۔‘‘ وضاحت : یہ حدیث ضعیف ہے ۔بحوالہ سابق حدیث نمبر 214 (9) اَلسَّخِیُّ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْہُ وَ اِنِّیْ لَاَرْفَعُ عَنِ السَّخِیِّ عَذَابَ الْقَبْرِ ’’سخی مجھ سے ہے اور میں سخی سے ہوں اور میں سخی سے عذاب قبر ہٹا دوں گا۔‘‘ وضاحت : یہ حدیث ضعیف ہے ۔بحوالہ سابق حدیث نمبر 216 (10) حَلَفَ اللّٰہُ بِعِزَّتِہٖ وَ عَظْمَتِہٖ وَ جَلاَلِہٖ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بَخِیْلٌ ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت،عظمت اور جلال کی قسم کھائی کہ بخیل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ وضاحت : یہ حدیث موضوع ہے ۔بحوالہ سابق حدیث نمبر 222