کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 102
جمعۃ جمعت بعد جمعۃ فی مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی مسجد لا عبد القیس بجواثی من البحرین وجواثی بضم الجیم وبعد الالف مثلثھۃمفتوحۃ وھی قریۃ شھیرۃ لھم وانما جمعوا بعد رجوع وفدھم الیھم فدل علی انھم سبقوا جمیع القری الی الاسلام۔ حاصل اس عبارت کا یہ ہے کہ عبد القیس کا اسلام قبول کرنا تمام اہلِ قریٰ کے اسلام قببول کرنے سے سابق ہے۔ نیز حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کے تحت (ص۴۸۶) میں فرماتے ہیں: وفیہ اشعار بتقد یم اسلام عبد القیس علی غیرھم من اھل القری و ھو کذلک کما قررتہ فی اواخر کتاب الایمان۔ ’’یعنی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ میں اشعار ہے اس بات پر کہ عبد القیس کا مسلمان ہونا تمام اہلِ قریٰ کے اسلام پر مقدم ہے۔ اور واقع میں بھی ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوائل کتاب الایمان میں اس کو ثابت کیا ہے۔‘‘ ان عبارات سے صاف ثابت ہوا کہ قبیلہ عبد القیس تمام اہلِ قریہ سے پہلے اسلام لائے۔ اور ان سے پہلے کسی قریہ کے لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ پس مؤلف کا یہ لکھنا کہ ہر چند اتنی مدت میں سینکڑوں اہلِ عوالی وقریٰ مسلمان ہو چکے تھے صاف مغالطہ دینا ہے۔ تنبیہ آخر جناب مؤلف فرماتے ہیں :چنانچہ روحاجو مدینہ سے ۳۶کوس پر ہے وہاں کی مساجد میں سے ایک ایسی مسجد تھی۔ الخ میں کہتا ہوں کہ جب اوپر ثابت ہوا کہ جو اثا میں جمعہ قائم ہونے سے پہلے بجز اہلِ عوالی کے کسی قریہ کے لوگ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے ۔ تو پھر قریہ روحا میں ں(جہاں کے لوگ ابھی مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے)مسجدیں کیسے بن گئیں۔ رہی وہ مسجد کہ جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر فرمایا: لقد صلی فی ھذا المسجد سبعون نبیا