کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 103
سو اس مسجد کے موجود ہونے سے لازم نہیں آتا کہ اتنی مدت میں روحاکے لوگ مسلمان ہو چکے ہوں۔ اس واسطے کہ یہ مسجد روحا کے مسلمانوںں کی تعمیر کی ہوئی نہیں تھی۔ نہایت قدیم تھی تب ہی تو اس میں ستر نبیوں کی نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ علاوہ بریں ترمذی کی روایت اس طرح پرہے۔ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی فی وادی الروحاء وقال لقد صلی فی ھذا المسجد سبعون نبیا گذافی الفتح ۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی روحا میں نماز پڑھی اور فرمایا اس مسجد میں ستر نبیوں نے نماز پڑھی ہے ۔‘‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روحا کے وادی میں نماز پڑھی تھی نہ کسی مسجد میں۔ اور آپ کا فی ھذا المسجد فرمانا باعتبار معنی لغوی کے ہے۔ الحاصل مؤلف کا یہ قول کہ چنانچہ روحا کی مساجد میں سے ایک ایسی مسجد تھی الخ۔ سراسر مغالطہ ہے۔ اور اگر فرض کیا جائے کہ جواثا میں جمعہ قائم ہونے سے پہلے روحا کے لوگ مسلمان ہو چکے تھے اور یہاں مسجدیں بھی تعمیر ہو چکی تھیں تو بھی جناب مؤلف کو بجز ضرر کے کچھ فائدہ نہیں۔ اس واسطے کہ مقام روحا قریہ جامعہ تھا۔فتح الباری (ص۲۸۲ج۱) میں ہے ھی قریۃ جامعۃ علی لیلتین من المدینۃ اور قریہ جامعہ میں عند الاححناف جمعہ فرض ہے۔ پس اب جناب مولف کو بتانا چاہیے کہ جب روحاقریہ جامعہ تھا۔ اور یہاں کے لوگ جواثا سے پیشتر مسلمان بھی ہو چکے تھے۔ پھر یہاں جواثا سے پیشتر جمعہ کیوں نہیں قائم ہوا۔ المختصر ۔ جناب شوق صاحب یا تو یہ تسلیم کریں کہ جواثا سے پیشتر روحا کے لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ یا تو روحا میں آثا سے پیشتر جمعہ نہ قائم ہونے کی وجہ بیان کریں۔