کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 106
الجمعۃ میں الف لام کمال کے واسطے ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جمعہ علی وجہ الکمال شہروں میں ہوتا ہے۔ الف ولام کمال کے واسطے کثرت سے مستعمل ہوتا ہے۔ جیسے ان احادیث میں المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ المھاجر من ھج ما نھی اللہ ۔ الشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب قال الحافظ فی فتح الباری(ص۲۹ج۱) قولہ المسلم قیل الا لف واللام فیہ للکمال نحوز ید الرجل ای کامل فی الرجولیلۃ وقال اثبات اسم الشیء علی معنی اثبات الکمال لہ مستفیض فی کلامھم (ص۳۶۵) وقال واللام تستعمل کثیر اللکمال کقولہ الشدید الذی یملکک نفسہ عند الغضبپںحسن رحمۃ اللہ علیہ بصری اور محمد رحمۃ اللہ علیہ بن سیرین کے قول الجمعۃ فی الامصار کو موحبین جمعہ علی اہلِ القریٰ کے مقابلہ میں پیش کرنا انصاف کی بات نہیں ہے۔ قال: ثنا ھشیم قال اخبرنا یحیی بن سعید عن ابی بکر بن محمد انہ ارسل الی اھل ذی الحلیفۃ ان لا یجمعوا بھا وان تدخلوا الی المسجد مسجد الرسول۔ اقول : کدھر خیال ہے ۔طبیعت حاضر ہے یا نہیں۔ اس اثر سے تو صاف ظاہر ہے کہ ابو بکر بن محمد رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اہلِ قریٰ پر نمازِ جمعہ فرض تھی۔ ورنہ وہ اہلِ ذی الحلیفہ کو چھ یا سات میل کے مسافت سے مسجد نبوی میں نمازِ جمعہ کے لیے حاضر ہونے کی ہر گز تکلیف نہ دیتے۔ ان لا یجمعوا بھا کے بعد وان تدخلوا الی المسجد مسجد الرسول صلم کا لفظ صاف بتارہا ہے ۔ کہ اہلِ ذی الحلفیہ ضرور مکلف ببالجمعہ تھے۔ قال: عند رعن شعبۃ عن مغیرۃ ابراھیم قال لا جمعۃ ولا تشریق الا فی مصر جامع اقول : یہ حضرت علی رضی اللہ عنہم رضی اللہ عنہم کا وہی اثر ہے جس کے سات جواب ہو چکے ہیں۔ قال: ثنا ھشیم عن مغیرۃ عن ابرھیم قال کانو الا یجمعون فی العساکر اقول: عساکر میں بوجہ سفر جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔