کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 108
دوسرا باب پہلے باب میں جناب شوق صاححبب کی ادلہ ثمانیہ وآثار صحابہ رضی اللہ عنہم رضی اللہ عنہم وتابعین رحمۃ اللہ علیہ کا جوابب دیا گیا ہے۔ اب اس دوسرے باب میں آپ کی بقیہ باتوں کا جواب لکھا جا تا ہے۔وباللہ التوفیق قال :حدود مصر: اقول : مصر کی جتنی تعریفیں فقہاء نے اپنے اپنے اجتہاد ورائے سے بیان کی ہیں ان میں سے ایک بھی یقینا صحیح نہیں۔ اس واسطے کہ ان میں کوء تعریف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مصر جامع کی معتبر اور صحیح وہی تعریف ہو گی۔ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہو گی۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے قول لا تشریق ولا جمعۃ الا فی مصر جامعکا ٹھیک اورصحیح مطلب آپ ہی خوب بیان کر سکتے ہیں اور اگر یہ قول من قبیل ما لا یعقل بالر أی فرض کیا جائے۔ تو اس صورت میں مصر جامع کی وہ تعریف صحیح ومعتبر ہو گی۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح منقول ہو یا جو لغتِ عرب سے ثابت ہو، مگر مصر جامع کی تعریف نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منقول ہے اور نہ لغتِ عرب سے ثابت ۔لہٰذا مصر جامع کی کوئی تعریف یقینا صحیح نہیں یہ ہے حدود مصر کا اجمالی جواب۔ اور تفصیلی جواب آگے آتا ہے۔ قال مصر کی تعریف میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔ ایک تعریف تو وہی ہے۔ جو عطار رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔ جس کی نسبت علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح بخاری میں لکھا ہے۔وبھذا قال اصحاببنا الحنفیۃ اور اسی تعریف کو صاحب ہدایہ نے بایں الفاظ لکھا ہے۔والمصر الجامع کل موضع لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود وھذا عن ابی یوسف یعنی مصر جامع ومقام ہے ۔جہاں امیر وقاضی رہتے ہوں۔ اور تنقیذ احکام