کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 109
واقامت حدود کرتے ہوں۔ اور یہ تعریف امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے۔ اقول:اولا:عطار رحمۃ اللہ علیہ نے قریہ جامعہ کی جو تعریف کی ہے۔ وہی تعریف امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے مصر جامع کی بیان کی ہے۔ اور ظاہر ہیے کہ قریہ جامع اور مصر جامع ایک شے نہیں۔ پس عطار رحمۃ اللہ علیہ نے جو تعریف قریہ جامع کی بیان کی ہے وہ فی الواقع قریہ جامع ہی کی تعریف ہے تو اس کو مصر جامع کی تعریف قرار دینا صحیح نہیں۔ اور اگر واقع میں وہ تعریف مصر جامع کی ہے تو اسے قریہ جامع کی تعریف بتانا ٹھیک نہیں۔ اب جب تک کسی صحیح دلیل سے اس کا فیصلہ نہ ہو لے کہ یہ تعریف واقع میں قریہ جامعہ کی ہے یا مصر جامع کی ، تب تک امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف کو ہم کسی طرح صحیح نہیں کہہ سکتے۔ ثانیاً:اجلہ علمائِ احناف نے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی اس تعریف کو غیر صحیح اور نامعتبر ہونے کا صاف اعتراف کیا ہے۔ ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ حنفی شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں: وایضا من جملۃ حد المصر علی ما صححہ صاحب الھدایۃ انہ الموضع الذی لہ امیر وقاص ینفذ الا حکام ویقیم الحدود ولا شک ولا ریب ان القاضی المنفذ للاحکام عزیز بل معدوم من بین الانام لان غالب القضاۃ یأخذ ون القضائء بالدراھم واختلف فی صحۃ تقلدہ ثم غالببھم یاخذ ون الرشاد واختلف فی العزالھم مع الاتفاق علی استحقاق العزالھم ثم الکثرھم ما ینفذونن الاحکام اما لجھلھم واما لعدم التفاتھم ووجود فسقھم ولو فرض فرد منھم متصف باوصاف القضائء وارادواجراء الا حکام علی وفق نظام الا سلام منعہ الا مراء والحکام والاحتیاط فی الدین من شیم المتقین۔