کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 111
اس تعریف کو چھوڑ کر امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری تعریف پر فتویٰ ہر گز نہ دیتے۔ الحاصل: مصر کی یہ تعریف جو ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے اور جس کو صاحب ہدایہ نے اختیار کیا ہے۔ خود عند الحنفیہ نامعتبر ہے۔ قال : وقال ابو حنیفۃ المصر کل بلدۃ فیھا سکک واسواق ولھا رسایتق ووال ینصف المظلوم من الظالم وعالم یرجع الیہ فی الحوادث۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ مصر وہ بلدہ ہے جس کومیں کوچہ وبازار ہوں۔ اور اس کے علاقہ میں کچھ گاؤں ہوں اور وہاں حاکم ہو جو مظلوم وظالم کے درمیان انصاف کر سکتا ہو اور وہاں عالم ہو جس کی طرف حوادث میں رجوع کرتے ہیں۔ اقول : یہ تعریف بھی معتبر نہیں ہے۔ مولانا عبد العلیٰ ارکان اربعہ میں اس تعریف کو اور پہلی تعریف کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔ ویررد ھذین الروایتین ان الصحابۃ التابعین لم یترکوالجمعۃ فی زمان یزید مع انہ لا شبھۃ فی انہ کان من اشد الناس ظلما بالا جماع لانہ قصد ھتک حرمۃ اھل البیت وھی مصر اعلیہ ولم یمر علیہ وقت الا کان ھو بصدد الظلم من اباحۃ دماء الصحاببۃ الاخیار واما انتصاف الظالم من المظلوم فبعید منہ کل البعدما فھم وفی روایۃ عن الامام ابی یوسف المصر موضع یبلغ المقیمون عدد الایسع اکبر مساجدہ ایاھم فی الھدایۃ ھو اختیار البلخی وبد افتی اکثر المشائخ لماراؤفساد اھل الزمان والو لاۃ فان شرط اقامۃ الحدود انتصاف