کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 120
لوگوں نے اپنی رائے سے قبل نزول آیت جمعہ مدینہ میں جمعہ قائم کر دیا تھا ۔ پس قبل فرضیت جمعہ ان کا وہ اجتہادی فعل قابل احتجاج نہیں۔ اقول : اولاً :آپ کے اس قول سے ظاہر ہے کہ قبل نزول آیت جمعہ نمازِجمعہ فرض نہیں ہوئی تھی۔ پس پہلی دلیل میں آپ کا یہ قول کہ نماز جمعہ قبل ہجرت مکہ معظمہ ہی میں فرض ہو چکی تھی باطل ہو گیا۔ ثایناً : آپ نے (ص۱۳ )کے حاشیہ پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے اسی فعل اجتہادی سے فرضیت جمعہ قبل الہجرت پر احتجاج کیا ہے۔ پس اپنے لیے یہ فعل اجتہادی قابل احتجاج ہو۔ اور دوسروں کے لیے اس کے کیا معنی؟ ثالثاً : اصل احتجاجج آیہ جمعہ واحادیث مرفوعہ مذکورہ فی المقدمہ سے ہے یہ روایت استشہاد اً پیش کی جاتی ہے۔ قال: (۵)بعض کتب حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر کو مدینہ میں نمازِ جمعہ قائم کرنے کو لکھ بھیجا ۔ انھوں نے وہاں نمازِ جمعہ قائم کر دی تھی۔ حالانکہ ا س وقت مدینہ شہر نہ تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے کہ مدینہ ر حد مصر صادق نہیں تھی۔ اقول : اچھا فرمائیے تو کون سی حد معتبر مدینہ پر صادق تھی۔ ذرا معتبر کا لفظ خیال رہے۔ قال: کتب سیر کے دیکھنے سے ثابت ہے کہ تبع بادشاہ یمن کا جب مدینہ پر تسلط ہوا اور وہ واپس جانے لگا تو مدینہ میں چار سو عالمِ توریت رہ گئے۔ اقول: کچھ خبر بھی ہے کہ تبع بادشاہ یمن کا کس زمانہ میں مدینہ پر تسلط ہوا تھا۔ اور کب مدینہ میں چار سوعالمِ توریت تھے۔ جناب یہ واقعہ زمانہ بعثت سے بہت پہلے کا ہے۔ فتح الباری (ص۳۸۰جزو۱۵) میں ہے۔ یقال ان تبعا لما غزا الحجاز واجتاز یثرب خرج الیہ اربعما ئۃ حبر خبروہ بما یجب من تعظیم البیت وان نبیا سیبعث یکون مسکنہ یثرب فاکرمھم وعظمالبیت بان کساہ وکتب کتا باوسلمہ لرجل من اولئک الا حبار واوصاہ ان یسلم للنبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ادرکہ فیقال ان ان ابا ایوب من ذریۃ ذلک الرجل حکاہ ابن ھشام فی التیجان واوردہ فی ترجمۃ تبع انتھٰی۔