کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 122
وقت میں چار سو عالم توریت موجود ہوں تو کواہ مخواہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد بھی چار سو عالم توریت موجود ہوں۔ علاوہ بریں محمد رحمۃ اللہ علیہ بن اسحق وغیرہ نے جو تبع کا قصہ بیان کیا ہے۔ اس میں بجائے خرج الیہ اربعما ئہ حبر کے جاء ہ حبران عالمان واقع ہے۔ یعنی تبع کے پاس مدینہ سے دو عالم تو ریت آئے ۔پس اب جناب شوق کو لازم ہے کہ پہلے بسند صحیح ثابت کرلیں کہ مدینہ سے تبع کے پاس کتنے عالم تو ریت آئے تھے۔ چار سو یا فقط دوتب اس کے اس واقعہ کو یہاں پیش کریں۔ فائدہ اے ناظریں! یمن کے سلاطین کا لقب تبع ہوا کرتا تھا۔ یمن میں بہت سے تبابعہ ہوئے ہیں۔مؤلف نے جس تبع کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ یمن کا آخری تببع ہے۔ اس کا نام اسعد بن ملیک ہے۔ اور کنیت اس کی ابو کرب ہے اسی کے شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تبع کو گالی نہ دو اس واسطے کہ وہ اسلام لایا تھا اور اس نے اول اول بیت اللہ پر غلاف چڑھایا تھا۔ (دیکھوتفسیر خازن وشروح جامع صغیر) قال: عقبہ ثالثہ میں پانسو مدنی آئے تھے۔ جن میں سے تہتر مرد ایمان لائے۔ اور اسی دن آپ نے اس انصار کے بارہ فرقہ فرمائے۔ جن پر بارہ آدمیوں کو سردار بنایا ۔ اقول : عقبہ ثالثہ میں تہتر مرد اور دو عورتوں کا مدینہ سے آنا بسند صحیح ثابت ہے باقی ان کے سوا اور زیادہ لوگوں کا آنا بسند صحیح ثابت نہیں اور اگر فرض کیا جائے کہ پانچ سو آئے تھے تو یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ کل خاص مدینہ ہی کے رہنے والے تھے اور عوالی کے نہیں تھے۔ اور یہ بھی تسلیم کر لیں کہ یہ سب لوگ خاص مدینے ہی کے تھے تو اس سے مدینہ کا مصر ہونا کیوںکر لازم آگیا۔