کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 125
معناہ جمعواحیثما کنتم من الا مصارا لا تری انھا لا تجوز فی البراری اقول:علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے حیثما کنتم کا جو مطلب بیان کیا ہے۔ اس کو کوئی اہلِ انصاف کسی طرح تسلیم نہیں کر سکتا۔ مجھے نہایت حیرت ہے علامہ عینی سے کہ انھوں ایسی تاویل پر کیسے جرأت ہوئی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرنا کہ جمعہ کس مقام میں ادا کرنا چاہیے۔ اور کس مقام میں نہیں اور اس سوال کے جواب میں حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ لکھنا کہ جمعوا حیثما کنتم نہایت ہی واضح اور ظاہر دلیل ہے کہ آپ نے عموم امکنہ مراد لیا ہے۔ اگر آپ نے نزدیک قریہ میں جمعہ ناجائز ہوتا تو ہر گز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے جواب میں حیثما کنتم کا لفظ نہیں لکھتے۔ اور علامہ موصوف نے اس تاویل کی جو علت لکھی ہے کہ الا تری انھا لا تجوز فی البراریصحیح نہیں ہے۔ اس واسطے کہ براری میں جمعہ کا عدم جواز حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ۔اور اگر یہ ہم فرض بھی کرلیں تو عدم جواز جمعہ فی البراری سے عدم جواز فی القریٰ لازم نہیں آتا۔ قال: اس روایت کی تاویل ضرور ہے۔ ورنہ اخبار مرفوعہ وآثار صحابہ رضی اللہ عنہم خصوصا اثر علی رضی اللہ عنہ کے معارض واقع ہوتی ہے۔ اقول: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر بجز اثر علی رضی اللہ عنہ کے نہ کسی خبر مرفوع کا معارض ہے اور نہ کسی اثر کا،بلکہ آیہ جمعہ واحادیث مرفوعہ صحیحہ وآثار صحابہ رضی اللہ عنہم مذکورہ فی المقدمہ کے موافق ہے۔ لہٰذا اس اثر کے مقابل میں اثر علی رضی اللہ عنہ قابلِ اعتبارنہیں۔ یا اس کی تاویل کرنا ضروری ہے۔ تاآیہ قرآنی واحادیث صحیحہ ودیگر آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کے موافق ہو جائے۔ قال: اور بحالت تعارض ان اخبار وآثار کو بوجھ قوت اسناد ترجیح ہو گی ۔کیونکہ اس روایت میں عطارء بن ابی میمونہ رحمۃ اللہ علیہ واقع ہوئے ہیں ، جن کی نسبت حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ فتح الباری میں لکھا ہے۔وثقہ ابن معین والنسائی وابوز رعۃ وقال ابن عدی فی احادیث بعض ماینکروقال البخاری وغیرہ واحد کان یری القدر اور میزان میں لکھا ہے۔ قال ابو ھاتم لا یحتج بہ۔ پس چونکہ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ وابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ کی جرحیں ان پر