کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 127
اس کا جواب یہ ہے کہ برتقد یر تسلیم اس امر کے کہ یہ روایت محفوظ بھی ہے اس میں یہ کہاں ہے کہ وہ لوگ محض قریہ میں نمازِ جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ اقول: اس روایت کے محفوظ ہونے میں کسی کا کلام نہیں ہے۔ اگر آپکے نزدیک یہ روایت غیر محفوظ ہے تو اس کے مقابل میں کوئی دوسری روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی پیش کیجئے جس سے اس کا غیر محفوظ ہونا ثابت ہو۔ اور التلخیص الجیر کی بے سند روایت جو آپ نے نقل کی ہے اس کا جواب ابھی آتا ہے اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ اس میں یہ کہاں ہے کہ وہ محض قریہ میں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ جناب من ان اہل میاہ کا قریہ میں جمعہ پڑھنا تو آفتات کی طرح روشن ہے اور اس کا انکار آپ کو بھی نہیں ہے۔ رہا یہ کہ وہ قریٰ محض قریٰ تھے یا نہیں سو اس کی تفتیش محض فضول ولاطائل ہے ،کیونکہ اثر علیؓ لا تشریق ولا جمعۃ الا فی مصر جامع سے عموم ہر قریہ میں جمعہ کا ناجائز ہونا ظاہر ہے۔ قال: اور اگر ہم اس کو بھی تسلیم کر لیں تو ظاہر ہے کہ یہ فعل اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کا نہ تھا،بلکہ اہلِ میاہ کا تھا جو قابلِ اعتبار نہیں۔ اقول: مانا ہم نے کہ یہ فعل اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کا نہیں، مگر جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اس فعل پر سکوت کیا تو ابا ن کے اس فعل کے قابلِ اعتبار ہونے میں کیا شبہ رہا۔ اور علاوہ اس کے جب ان اہلِ میاہ کا یہ فعل آیہ جمعہ واحادیث صحیحہ وآثار صحابہ رضی اللہ عنہم کے موافق ہے تو قابلِ اعتبار نہ ہونے کی کیا وجہ؟ قال: رہا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا سکوت، اس کے بہت سے وجہ ہو سکتے ہیں۔ اقول: ناجائز اور گناہ کا کام ایک جماعت کی جماعت کو کرتے ہوئے بار بار دیکھنا اور باوجود