کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 128
قدرت ہر بار سکوت کرنااور انکار نہ کرنا شان صحابہ رضی اللہ عنہم سے نہایت ہی بعید ہیے۔ بالخصوص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی سے ، جن کا اتباع سنت وانکار بدعت میں تشدد مشہور ہے۔ پس ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سکوت کی وجہ فقط یہی تھی کہ یہ لوگ ایک فعل جائز کے قائل تھے۔ اور اس کے سوا کوئی دوسری وجہ نہیں ہو سکتی ہے۔ اور اگر کوئی دوسری وجہ ہو سکتی ہے تو بتائے کہ وہ کیا ہے؟ قال: اور خود ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت بھی مروی ہے جو عدم جواز پر دال ہے۔ التلخیص الجیر میں ہے۔ روی ابن المنذرعن ابن عمر انہ کان یقول لا جمعۃ الا فی المسجد الا کبر الذی یصلی فیہ الامام۔ اقول: اولا: تلخیص میں اس روایت کی سند نہیں مذکور ہے ۔ پہلے آپ اس کی سند نقل فرمائیے ۔ تاکہ اس کی صحت وسقم کا حال ظاہر ہو۔ ثانیاً: یہ روایتاولیٰ کے مخالف نہیں ہے ۔کیونکہ مطلب اس روایت کا یہ ہے کہ جس شہر میں امام ہو اس شہر کی صرف انھی مسجد میں نمازِ جمعہ جائز ہے ۔ جس میں امام نماز پڑھتا ہو اور اس شہر کی کسی اور مسجد میں جمعہ جائز نہیں۔ اس روایت کو قریٰ میں جمعہ ہوتے ہونے سے کچھ تعلق نہیں۔ کما لا یخفی علی المتأمل قال: (۹)قال اللبیھقی فی المعرفۃ حکی اللیث بن سعد ان اھل الا سکنددیۃ ومدائن مصر وسواحلھا کانو یجمعون الجمعۃ علی عھد عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان بامرھما وفیھا رجال الصحابۃ۔ اس کاجواب یہ ہے کہ لیث رحمۃ اللہ علیہ بن سعد اتباع تابعین سے ہیں ۔ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ وعثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہیں پایا ۔ پس سند منقطع ہے۔ اقول: اگر لیث رحمۃ اللہ علیہ بن سعد نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ وعثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا تو ان اہلِ اسکندریہ واہلِ مصر وغیرہم کا زمانہ تو ضرور پایا ہے۔ جن کا جمعہ پڑھنا بعہد حضرت عمر رضی اللہ عنہ وعثمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں پھر سند کیسے منقطع ہو گئی۔ سند تو جب منقطع ہوتی کہ اہلِ مصر وغیرہم کا جمعہ پڑھنا خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ وعثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے۔ اما لیث رحمۃ اللہ علیہ بن سعد کا اتباع تابعین سے ہونا توآپ ہی نے لکھا ہے۔ اتنا اور سنیے کہ آپ کو پچاسوں تابعین سے ملاقات ہے ۔ اور آپ کا وطن مصر ہے۔ دیکھو الرحمۃ الغیثیۃ بالترجمۃ اللیشیۃ(للحافظ ابن حجر)