کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 129
قال: اور فقیر کے پاس معرفۃ السنن کا قلمی پرانا نسخہ بخط یمن موجود ہے ۔ اس میں مدائن مصر ومدائن سوا حلہا ہے ۔ جس سے یہ نکلتا ہے کہ وہ لوگ شہر میں پڑھتے تھے۔ اقول: آپ کا نسخہ غلط ہے ۔جن نسخوں میں مدائن مصر وسو حلہا ہے وہی صحیح ہے۔ اور اسی طرح حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فتح الباری میں نقل کیا ہے آپ کے نسخہ کے غلط ہونے کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ امام لیث رحمۃ اللہ علیہ بن سعد نے قریہ میں نمازِ جمعہ جائز ہونے پر انھیں اہل اسکندریہ وغیرہم کے فعل سے استدلال کیا ہے۔ فتح الباری (۴۸۶) میں ہے۔ وروی البیھقی من طریق الولیدبن مسلم سألت اللیث بن سعد فقال کل مدینۃ اوقریۃ فیھا جماعۃ امر وابالجمعۃ فان اھل مصر وسواحلھا کانو ایجمعون الجمعۃ علی عھد عمر وعثمان بامر ھما وفیھارجال مزالصحابۃ پس اگر یہ لوگ جمعہ شہر میں پڑھتے تھے۔ امام لیث رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال غلط ہوا جاتا ہے۔ علاوہ اس کے مدائن مصر ومدائن سوا حلہا کا کچھ مطلب بھی تو نہیں بنتا ۔لہٰذا آپ کا نسخہ بلا شبہ غلط ہے۔ مصر او رسواحلہا کے درمیان لفظ مدائن کا تب کی غلطی سے زیادہ ہو گیا ہے۔ الحمد للہ کہ دوسراباب بھی اختتام کو پہنچا’’ان شاء اللہ تعالیٰ‘‘جو شخص ہمارے اس رسالہ ور الاصار کواول سے آخر تک بنظر غور وانصاف دیکھے گا اسے یقین کامل ہو جائے گا کہ احناف کا یہ دعویٰ کہ دیہات میں نمازِ جمعہ ناجائز وگناہ ہے۔ محض غلط وسراپا باطل ہے اور اس پر آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہو جائے گا کہ اہلِ حدیث کا یہ دعویٰ کہ نمازِ جمعہ شہر ودیہات وغیرہ ہر مقام میں جائز وصحیح ہے۔ اور اہلِ مصر واہلِ قریہ وغیرہم سب پر یکساں فرض ہے نہایت مدلل ومحقق ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واٰخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین ۔