کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 132
تنو یر الابصار فی تائید نور الابصار حامد اومصلیااما بعد خا کسار محمد عبد الرحمن مبارک پوری اعظم گڈھی جملہ برادران اہلِ اسلام کی خدمت میں ملتمس ہے کہ مولوی ظہیر احسن صاحب شوق نے ایک رسالمہ مسمی بہ جامع الا ثار شائع کیا تھا جس میں آیہ قرآنیہ واحادیث نبویہ کے خلاف یہ لکھا تھا کہ’’دیہات نمازِ جمعہ پڑھنا ناجائز ونادرست ہے۔‘‘اس رسالہ میں شائع ہوتے ہی علمائِ اہل حدیث اس کی تردید کی طرف متوجہ ہوئے۔ چانچہ تھوڑے عرصہ میں اس رسالہ کے چار جواب تیار ہو گئے ،پہلے جناب مولوی محمد علی صاحب کا نہایت معقول اور دندان شکن جوا ب مسمی بہ المذھب المختار طبع ہو کر شائع ہوا ۔ ماشاء اللہ جناب مولوی صاحب نے حضرت شوق کو اعتراضات وایرادات کے ایسے ایسے سخت پھندوں میں پھانسا ہے کہ جن سے ان حضرت کو عمر بھر رہائی پانا ناممکن ہے،پھر اس کے بعد میرا نہایت پرزور قابلِ دید رسالہ نور البصار نام چھپ کر شائع ہوا اس رسالہ نے تو مولوی شوق صاحب کو بالکل مبہوت کر دیا اور اس کی ساری قابلیت اور محدثیت کی ایسی قلعی کھول دی کہ اس کا داغ قیامت تک مٹنا مشکل ہے اور ابھی دو جواب شائع ہونے کو باقی ہیں۔ مولوی شوق صاحب نے رفع ندامت کے خیال سے المذھب المختار کا ایک مہمل جواب کسی صورت سے لکھ کر شائع کیا ہے۔ جس کا نام لا مع الانوار رکھا ہے۔مگر میرے رسالہ نور الابصار کا جواب ان سے کسی طرح نہ ہو سکا ۔ آخر عاجز ہو کر بھا گے۔ اور