کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 133
لطف یہ ہوا کہ انھوں نے جو لامع الانوار کے آخر ورق پر جواب نہ لکھنے کی تین وجہیں لکھی ہیں، انھیں وجہوں سے ان کا جواب سے عاجر وقاصر ہونا ثابت ہو گیا۔و نیز انھیں وجہوں سے ان کی قابلیت وحدیث دانی کا اندازہ بھی نہایت اچھی طرح معلوم ہو گیا۔ اب ہم یہاں اون وجہوں کو ملاحظہ ناظرین کے واسطے نقل کر کے ان وجوہ کے تنائج کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور چونکہ دوسری وجہ میں ہم پر وضع روایت کا غلط اتہام قائم کیا گیا ہے اور اسی اتہام کو نور الابصار کے جواب نہ لکھنے کی ایک بہت بڑی وجہ سمجھی گئی ہے ۔ اس لیے ہم دوسری وجہ کو پہلے لکھنا مناسب سمجھتے ہیں۔ پس اب پہلے حضرت شوق صاحب کی دوسری وجہ کی سیر کو لو پھر اس کے بعد ہم ان کی پہلی اور تیسری وجہ کی سیر کرائینگے۔ صاحب کی دوسری وجہ اے ناظرین !میں نے نور الا بصار میں لکھا ہے کہ بخار ی کی ایک اور روایت میں ہے اربعا وعشرین لیلۃ یعنی قبا میں آپ چوبیس رات قیام کیا۔ اس پر مولوی شوق صاحب (جو اپنے کو سر لوح محدث کامل الفن لکھوایا کرتے ہیں)اسی لامع الانوار کے آخری ورق میں فرماتے ہیں کہ’’چوبیس روز قیام قبا کی نسبت کسی کتاب حدیث کوئی روایت ہر گز نہیں ہے۔‘‘اور پھر فرماتے ہیں۔’’ذرا ملاحظہ ہو کہ ایک تو چوبیس روز کی روایت گڑھی گئی اور اس پر حوالہ بھی کس کا دیا کہ بخاری کا۔‘‘ اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔فرماتے ہیں ۔’’جس شخص کی یہ حالت ہو وہ کیا اور اس کا رسالہ کیا ۔‘‘سبحان اللہ محدثہو تو ایسا ہو اور کامل الفن ہو تو ایسا ہو۔یہاں مولانا شوق کی محدثیت اور کامل الفنیت قابلِ تماشا ہے۔ دیکھو قبا میں چوبیس رات قیام کرنے کی روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔ اور کہاں کہ پارہ دوم میں۔ اور کن نسخوں میں بھی کہ جو ہندوستان میں شائع ہیں جن میں درس تدریس جاری ہے پڑھا پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی بخاری مطبوعہ مصطفائی کے صفحہ ۶۱ میں اور بخاری مع فتح الباری مطبوعہ انصاری کے صفحہ ۳۶۱ میں۔ اگر مولانا شوق کی محدثیت اور ان کے کمال کو دیکھو کہ انھوں نے کس صفائی سے اس روایت کا انکار کیا ہے اور کس دلیری وجرات سے اس روایت کے گڑھنے کا مچھر انہام کیا ہے۔ اور کس بے باکی سے اپنے اسی کمال وقابلیت کو نور الابصار کے جواب نہ لکھنے کی وجہ ٹھہرائی ہے۔ فاعتبروایا اولی الابصار یہاں بخاری کی جوبیس راتت والی روایت کو بقدر ضرورت نقل کر دنیا اس روایت کے متعلق شارحین بخاری کے اقوال ونیز تراجم بخاری سے بقدر حاجت ترجمہ لکھ دینا ضروری ہے۔ تا مولانا شوق کہ محہ ثبت کی حقیقت اور ان کے قول مذکود کی صداقت خوب اچھی طرح ظاہر ہو جائے۔پس بغور سنو کہ بخاری مطبوعہ مصطفائی جلد اول کے صفحہ ۶۱ میں ہے۔ عن انس بن مالک قال قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ فنزل اعلی المدینۃ فی حی یقال لھم بنو عمر و بن عوف فاقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیھم اربعاوعشرین لیلۃ اور بخار ی مع فتح الباری کے صفحہ ۲۶۱میں ہے فاقام البنی صلی اللہ علیہ وسلم فیھم اربعا وعشرین لیلۃ اور تیسیر القاری شرح بخاری جلد اول کے صفحہ ۱۶۳ میں اس روایت کا ترجمہ اس طرح پر لکھا ہے گفت انس قدوم آور د آنحضرت مدینہ راپس فرود آمد جانب اعلائے مدینہ در محلہ کہ گفتہ می شد ایشان رابنو عمر وبن عوف پس اقامت فرمود پیغمبر خدار حمت کنا دخدا بروے درمیان ایشان بست وچہار شب۔ اور شیخ الاسلام دہلوی والد شیخ سلام اللہ صاحب المحلی شرح الموطا ترجمہ بخاری میں لکھتے ہیں۔ (فاقام النبی) پس اقامت فرمود آنحضرت( صلی اللہ علیہ وسلم یھم اربعاوعشرین لیلۃ) میان ایشان بست وچہار شب۔ اور فضل الباری ترجمہ بخاری کے صفحہ ۱۲۵ میں اس روایت کا ترجمہ اس طرح پر لکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور مدینہ کے اونچے طرف ہیں ایک قبیلہ میں جو بنو عمرو بن عوف کے نام سے مشہور تھے اترے سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں چوبیس راتیں ٹھرے رہے۔ اور حافظ ابن حجر فتح الباری۲۶۱ ج۱) مطبوعہ انصاری میں لکھتے ہیں۔ قولہ فاقام فھیم اربعا وعشرین کذاللمستمی والحموی۔ اور علامہ عینی عمدۃ القاری۳۵۴ج۲) میں لکھتے ہیں وفی روایۃ المستمی والحموی اربعا وعشرین لیلۃ۔ علامہ قسطلانی ارشاد الساری۴۲۱ج۱) مصری میں لکھتے ہیں ولا بوی ذروالوقت وابن عساکر فی نسخۃ اربعاوعشرین۔