کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 141
جو آپ کسی طرح نہ ہو سکا تو جواب نہ لکھنے کی چند وجہیں آپ نے تراش کر شائع کیں۔ مگر ماشاء اللہ وہ وجہیں کچھ ایسی معقول اتریں کہ انھیں سے سلوگ خوب اچھی طرح سمجھ گئے کہ ؎ زاہد نہ داشت تاب جمال پری رخان کنجے گرفت وترس خدارا بہانہ ساخت پھر جب آپ کے ان وجوہ کی تردید میں تنویر الابصار نہایت آب وتاب کے ساتھ شائع ہوا۔ اور ادھر کلکتہ سے اسٹھارواجب الاظھار طبع ہو کر پران ہوا۔ اور اسی اثنا میں آپ نے غلطی کا اعلان بھی شائع کر دیا۔ پس ان تینوں پر جون سے آپ کی جن جن باتوں کی قلعی کھلی ہے اور جس قدر نیک نامی آپ نے حاصل کی ہے اس کو نہ پوچھو،اب آپ نے یہ خیال کیا کہ اگر تنویر الابصار کو جواب نہ شائع ہوا تو اور بہت بڑی نیک نامی ہوا چاہتی ہے۔ لہٰذا دو چار مہمل اعتراض کر کے اس کا نام تبصرۃ النظاء فی تنویر الابصار لکھ کر شائع کیا ہے تاظاہر ہو کہ مولانا شوق نے تنویر الابصار کا جواب لکھا۔ قال: ہر گز آپ نے یوں نہیں لکھا ہے ،بلکہ اربع وعشرون لیلۃ لکھا ہے اور مکر ر اسی طرح لکھا ہے اب دیکھئے کہ اولاآپ نے یہ غلطی کی کہ اس روایت کے بعض الفاظ غلط طور پر نقل کئے ۔ ثانیا اب کس دلیری سے آپ لکھتے ہیں کہ میں نے اربعا وعشرین لکھا ہے جو بالکل غلط ہے۔ الخ اقول: آپ کا یہ اعتراض مضحکہ طفلان ہے۔ آپ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اپنے علم وافضل اور متانت کی اپنے ہاتھوں قلعی کھولی ہے۔ حضرت !اربع وعشرون لیلۃ اور اربعا وعشرین لیلۃ میں کچھ فرق نہیں ہے۔ ان دونوں لفظوں کے معنی چوبیس رات کے ہیں۔ ہاں جوان دونوں لفظوں میں ایک اعرابی فرق ہے ۔ اس کا اعتبار ترکیب عربی میں ضروری ہے نہ زبان اردو میں آپ کے اس اعتراض کا اہمال ذیل کی مثال سے بہت اچھی طرح ظاہر ہو سکتا ہے۔ زید نے دعویٰ کیا کہ نماز میں آمین آہستہ ہی کہنا چاہیے ،کیونکہ امام طحاوی