کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 143
سے بمقضائے انسانیت چوک ممکن ہے۔ مگر انسان کے لیے کمال جوہر یہ ہے کہ جب اس کو اپنی غلطی پر اطلاع ہو جائے تو اس کا اعتراف کر لے اور تفسانیت کو دخل نہ دے میرے نزدیک یہ اعلی درجہ کا کمال ہے ۔بہر کیف جب اس بارے میں اشتہارات چھپوا کر میں شائع کر چکا ہوں تو وہ پہلا خیال اور اگلا قول قابلِ گرفت نہیں ہو سکتا۔‘‘ انتھٰی بلفظہ جب یہ سب کچھ آپ لکھ کر شائع کر چکے تو اب بکا کیجئے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تو چوبیس والی روایت ہر گز نہیں لکھی ۔ الخ اس بکنے سے کچھ ہونا جانا نہیں ہے۔ عبرت کا مقام ہے کہ ۲۴ والی روایت حموی کے نسخہ میں موجود مستملی کے نسخہ میں موجود ۔ ابن جسا کو کے نسخہ میں موجود ۔ ابو الوقت کے نسخہ میں موجود ۔ ابو ذر کے نسخہ میں موجود ۔ حافظ ابن حجر کے نسخہ میں موجود، صاحب تیسیر القاری نے شرح کے واسطے صحیح بخاری کا جو نسخہ اختیار کیا ہے اس میں یہ روایت موجود، شیخ الاسلام دہلوی والد شیخ سلام الددنے ترجمہ کے واسطے جو نسخہ اختیار کیا ہے اس میں یہ روایت موجود ، مولوی احمد علی صاححب نے جو صحیح بخاری چھپوائی ہیے اس میں یہ روایت موجود، مگر باایں ہمہ حضرت شوق کی جرأت کو دیکھو کہ کس صفائی سے فرماتے ہیں کہ’’امام بخاری نے تو ۲۴ والی روایت ہر گز نہیں لکھی۔‘‘ کہاں ہیں علمائِ حنفیہ ذرا وہی لوگ انصاف سے فرمائیں کہ کیا ایسی ہی جرأت اہلِ علم سے صادر ہوا کر تی ہے۔ کیا اربابِ علم ایسی ہی بدیہی باتوںں کا انکار کیا کرتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قال: میں نے بذریعہ اشتہارات مطبوعہ اس کو واپس لے لیا ہے اور اسی زمانہ میں آپ کی خدمت میں اور آپ کے اعوان وانصار کے پاس میں نے وہ اشتہارات بھیج دیے ہیں جس کا شکریہ آپ کو ادا کرنا تھا۔ اقول: کیا خوب ۔ سنگین غلطی کریں آپ، بذریعہ اشتہارات اس کا اعتراف کریں آپ، اور نہایت مذامت کے ساتھ واپس لیں اس کو آپ، اور اس کا شکریہ ادا کروں میں ۔ شچ فرمائیا گا کیا آپ کی یہ بات اعجوبہ روز گار نہیں ہے۔ قال : اولا:اکثر نسخ صحیح بخاری میں یہ لفظ مروی نہیں۔