کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 148
نتیجہ ہے ولا ایسی ڈل چو کہ اور سنگین غلطی تو ادنیٰ طلبہ حدیث سے بھی ہونا بعید ہے، پس ایسی حالت میں لفظ(جو اس ٹھکانے نہیں ہیں) نہ غیرمہذب ہے اور نہ اس کا یا اس کے مراد ف کسی اور لفظ کا لکھنا خلاف تہذیب ہے۔ ورنہ آپ خود اپنی زبان سے غیر مہذب ٹہر جائینگے ۔ کیونکہ سفر بنگال میں جب ایک نازک اور خطرناک مقام میں آپ کے حواس ٹھکانے نہیں رہے تھے توآپ اپنے کو خود بدحوس اور ہوش وحواس فاختہ لکھا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں ’’طرح طرح کے خیالات دل میں آنے لگے اور نہایت ہی پشمانی ہو ئی کہ اتنی رات گزرے ناحق ایسی خطرناک راہ میں چلنے کا ارادہ کیا چور تو چور اگر اسباب کی طمع سے اسی مزدور کی نیت میں فتور آجائے تو یہ میرا کام تمام کر کے دریا میں اور ہر میدان پھر اس پر یہ سناٹا یہ دے کہ کر ہو ش وحواس فاختہ ہو رہے تھے ۔ خوف کے مارے دو قدم چلنا مشکل تھا اگر کہیں سے کچھ کھڑ کھڑا ہٹ کی آواز آجاتی تو کلیجا منہ کو آجاتا عرض اسی بدحواسی میں رفتہ رفتہ یکایک چراغون کی روشنی پر نظر پڑھی کچھ مکانات نظر آنے لگے دم میں دم آیا جان میں جان آئی۔‘‘ دیکھئے اس خطرناک راہ میں جب آپ کے حواس ٹھکانے نہیں رہے تھے تو خود اپنے کو آپ نے بد حواس او ر ہوش و حواس فاختہ بنایا ہے۔ جناب! بدحواس کو بد حواس کہنا یا یوں کہنا کہ اس کے حوا س ٹھکانے نہیں نہ کچھ خلاف تہذیب ہے اور نہ اس میں کچھ مضائقہ ہے۔ سودا ئی کو سدائی کہو شوق سے لیکن ہشیار کو دیوانہ بنانا نہیں اچھا ۔ قال: آپ کے نزدیک تہذیب تو الخ اقول: جناب ! ہماری مذہب رسالہ نور الابصار کو تہذیب سے جہاں تک علاقہ اس کو اہلِ انصاف بخوبی جانتے ہیں ۔ لیکن وقت اس کے مقابلہ میں آپ کو شکست فاش ہوئی ہے اس کے نسبت جو چکھ آپ فرمائیں تعجب کی بات نہیں ہے۔ قال :یہ کوئی خلاف تہذیب جملہ نہیں ،بلکہ لفط آمیز مذاق ہے۔