کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 152
ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا جس طرح اہلِ حدیث مصافحہ کرتے ہیں احادیث صحیحہ صریحہ اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے نہایت صاف طور پر ثابت ہے اس کے ثبوت میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا جس طرح اس زمانہ کے حنفیہ میں رائج ہے نہ کسی حدیث صحیح سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہم کے اثر سے اور نہ کسی تابعی کے قول و فعل سے۔ اور ائمہ اربعہ( امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، امام مالک، رحمۃ اللہ علیہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ) سے بھی کسی امام کا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا یااس کا فتویٰ دینا بسند منقول نہیں اور فقہائے حنیفہ نے تشبیہ اور تمثیل کے پیرایہ میں جو یہ لکھا ہے۔ کہ عبد اللہ بن مسعود نے فقہ کی کاشت کی اور زراعت کی ، اور علقمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں آب پاشی کی اور اس کو سینچا اور امام نخعی نے اس کو کاٹا۔ اور حماد نے مالش کی اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے غلہ کو چکی میں پیسا ۔ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے آٹے کو گوندھا۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی روٹی پکائی اور باقی تمام لوگ (یعنی مقلدین احناف) اس روٹی سے کھا رہے ہیں۔ سو واضح رہے کہ ان کاشت کر نے والے، زراعت لگانے والے آب پاشی کرنے والے کاٹنے والے، مالش کرنے والے، آٹا پیسنے والے آٹا گوندھنے والے،روٹی