کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 153
پکانے والے میں سے بھی کسی کا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا یا اس کا فتویٰ دینا ثابت نہیں ۔ حنفیہ کے نزدیک جو نہایت مستند اور معتبر کتابیں ہیں جن پر مذہب حنفی کی بنا ہے۔ ان میں بھی دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا مسنون یا مستحب ہونا نہیں لکھا ہے۔ کتب حنفیہ میں طبقہ اولیٰ کی کتابیں امام محمدل کی تصنیفات (بسوطِ جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر، سیر کبیر، زیادات) ہیں جن کی مسائل مسائل اصول اور مسائل ظاہر الروایہ سے تعبیر کیے جاتے ہیں اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ان تصنیفات میں آخری تصنیف کی جلالت شان کا پتہ اچھی طرح تم کو اس سے لگ سکتا ہے کہ امام ابو یوسف جو امام محمد کے استاد ہیں اس کتاب کو ہر وقت اپنے پاس رکھتے تھے۔ نہ حضر میں اس کو جدا کرتے اور نہ سفر میں۔اس آخری تصنیف میں بھی امام محمد نے یہ نہیں لکھا کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا چاہیے،بلکہ اس قدر لکھا لا باس بالمصافحہ یعنی مصافحہ کرنے میں کچھ مصائقہ نہیں ہے۔ فقہائے حنفیہ کے طبقہ ثانیہ میں علامہ قاضی خان بہت بڑے پائے کے فقہ ہیں آپ کی ضخیم کتاب جو فتاویٰ قاضی خاں کے نام سے مشہور ہے ۔عند الحنفیہ نہایت مستند ہے۔ قاضی صاحب نے اپنی اس کتاب کے ہر باب میں بے شمار مسائل جزئیہ کو درج فرمایا ہے۔ لیکن آپ نے اس کتاب میں دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کو نہیں لکھا ہے۔ کتب معتبر ہ حنفیہ میں ھدایہ ایک درسی اور ایسی مقبول اور مستند ومعتمد کتاب ہے کہ اس کی مدح میں فقہائے حنفیہ اس شعر کو پڑھتے ہیں۔( دیکھو مقدمہ ہدایہ ) ان الھدایۃ کا لقران قد نسخت ماصنفوا قبلھا فی الشرع من کتب یعنی ہدایہ نے قبرآن مجید کی طرح تمام ان کتابوں کو منسوخ کر دیا جو اس سے پہلے لوگوں نے تصنیف کی تھیں۔ اس کتاب میں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ ولا باس بالمصافحۃ لانہ ھو المتوارث وقال علیہ السلام من صافح اخاہ المسلم وحرک یدہ تنا ثرت ذنوبہ۔ انتہٰی (ہدایہ :ص ۴۵۲ج۴)