کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 154
یعنی مصافحہ کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔کیونکہ کہ وہ ایک قدیم سنت ہے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کرے اور اپنے ہاتھ کو ہلا دے تو اس کے گناہ جھڑ نے ہیں۔ ہدایہ کے شروح،بنایہ ، عنایہ، کفایہ،نتائج الافکار ، تکملہ فتح القدیر وغیرہا میں بھی اس امر کی تصریح نہیں کی گئی ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے منسون یا مستحب ہے۔ اور کتب معتبر ہ حنفیہ میں شرح وقایہ بھی درسی کتاب ہے اور قریب قریب ہدایہ کے مقبول ومستند ہے اس میں بھی دونوں ہاتھوں سے مسنون یا مستحب ہونا نہیں لکھا ہے اس میں صرف اس قدر لکھا ہے کہ مصافحہ کرنا جائز اور اس کتاب کے شروع حواشی معتبرہ ذخرۃ العقبی وغیرہ میں بھی اس کی تصریح نہیں کی گئی ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہونا چاہیے۔ اب آؤ ذرا ان متون ثلثہ معتبرہ کو دیکھیں جن پر فقہائے متاخرین کا اعتماد ہے یعنی وقایہ ، کنز، قدوری ۔ سو واضح رہے کہ ان متون میں بھی دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا مسنون یا مستحب ہونا نہیں لکھاہے۔ المختصر مذہب حنفی کی جتنی کتابیں مستند ومعتبر ہیں جن پر مذہب حنفی کی بنا ہے ان میں سے کسی میں دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا نہیں لکھا ہے نہ ان میں یہ لکھا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافہ کرنا ضروری ہے اور نہ یہ لکھا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ مسنون یا مستحب ہے۔ اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ فقہ حنفی میں درمختار ایک مشہور ومعروف کتاب اور اس میں لکھا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔ْتو ان کو یہ جواب دینا چاہیے۔