کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 156
منقول ہے اور نہ ان میں اس کی کوئی دلیل لکھی ہے ۔ غالب یہ ہے کہ اسی قنیہ سے بواسطہ یا بلا واسطہ یہ دعویٰ نقل کیا گیا ہے۔ یہ سب باتیں جب تم سن چکے تو اب ہمارے اس زمانہ کے احناف کا صنیع دیکھو ۔ ان لوگوں نے اس مسئلہ میں تحقیق سے کچھ بھی کام نہیں لیا، اور جن احادیث سے ایک ہاتھ سے مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے ان کو بالکلیہ نظر انداز کیا ،بلکہ اپنی ان تمام مستند کتابوں کو بھی نظر انداز کیا جن پر مذہب حنفی کی بنا ہے اور اڑے تو کس پر۔ درمختار وغیرہ پر اڑے تو ایسا کہ ایک ہاتھ کے مصافحہ کو غیر مسنون ٹھیرا دیا اور بعض جہال ومتعصبین نے تو اس قدر تشدد کیا کہ اپنی جہالت اور تعصب کے جوش میں آکر ایک ہاتھ کے مصافحہ کی نسبت نادر ست اور بدعت ہونے کا دعویٰ کر دیا اور اس پر بھی تسکین نہ ہوئی تو اس سنت نبویہ کو نصاری کا کام ٹھیرا کر اور اس سنت کے عاملین کو برے لقب سے یاد کر کے اپنے جہالت اور تعصب بھر ہوئے دل کو ٹھنڈا کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وھا انا اشرع فی المقصود متوکلا علی اللہ الودود