کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 159
مصافحہ کیاتھا ۔ اس حدیث کو علامہ محمد عابد سندی رحمۃ اللہ علیہ نے حصر الشارو میں اور علامہ شوکانی نے اتحاف الاکابر میں اور بہت سے محدثین نے اپنے مسلسلات میںذکر کیا ہے ۔ اس حدیث کی اسنا د کے کئی طریق ہیں۔ بعض طریق اگرچہ قابلِ احتجاج واستشہاد نہیں، مگر بعض طریق قابل استشہاد ضرور ہے۔ اور ہم نے اس روایت کو احتجاجاً پیش نہیں کیا ہے، بلکہ استشہاد اً ۔ اور اسی طرح تیسری روایت بھی استشہاداً ہی ذکر کی گئی ہے۔ واضح ہو کہ ان دونوں روایتوں میں اگرچہ داہنے ہاتھ کی تصریح نہیں ہے۔ لیکن ان روایتوں میں جو آگے آتی ہیں ۔ داہنے ہاتھ کی تصریح موجود ہے اور مصافحہ کے داہنے ہی ہاتھ سے مسنون ہونے کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یحب التیمن ما استطاع فی شانہ کلہ فی طھور ہ ترجلہ وتنعلہ متفق علیہ کذافی المشکوٰۃ۔(ص۴۶ج۱) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاموں میں حتیٰ الوسع داہنے کو محبوب رکھتے وضو کرنے میں اور کنگھی کرنے اور جو چاپہننے میں۔ اس حدیث کے عموم میں مصافحہ بھی داخل ہے۔ جیسا کہ علامہ عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اس کی تصریح کی ہے۔ تیسری روایت عن ابی امامۃ تمام التحیۃ الاخذ بالید والمصافحۃ بالیمنی رواہ الحاکم فی الکنی کذافی کنز العما (ص۱۳۔۱۳۱ج۹)طبع جدید یعنی ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سلامہ کی تمامی ہاتھ کا پکڑنا ہے اور مصافحہ داہنے ہاتھ سے ہے۔ روایت کیا اس کو حاکم نے کتاب الکنی ہیں ۔ اس روایت سے بھی صراحۃً معلوم ہوا کہ ایک ہاتھ سے یعنی داہنے ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہیے۔