کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 164
جب اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بیعت کے وقت ایک ہی ہاتھ (یعنی داہنے ہاتھ) سے مصافحہ کرنا مسنون ہے تو اسی سے ملاقات کے وقت بھی ایک ہی ہاتھ(یعنی داہنے ہاتھ) سے مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ مصافحہ ملاقات اور مصافحہ بیعت دونوں کی حقیقت ایک ہے۔ ان دونوں مصافحہ کی حقیقت میں شریعت سے کچھ فرق ثابت نہیں ۔ کما تقدم بیانہ پانچویں روایت مسند احمد بن حنبل(ص۶۸ج۵) میں ہے۔ حدثنا عبد اللہ حدثنی ابی ثنا ابو سعید وعفان تالا ثنا ربیعۃ کلوثوم حدثنی ابی قال سمعت ابا غادیۃ یقول بایعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ابو سعید فقلت لہ بیمینک قال نعم قالا جمیعا فی الحدیث وخطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم العقبۃ الحدیث۔ یعنی ربیعہ بن کلثوم کہتی ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے حدیث بیان کی کہ میں نے ابو غادیہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی پس میں نے ابو غادیہ سے کہا کیا آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی؟ انھوں نے کہا ہاں۔ یہ روایت صحیح ہے اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔ اس روایت سے بھی بیعت کے وقت ایک ہی ہاتھ سے(یعنی داہنے ہاتھ سے) مصافحہ کا مسنون ہونا بصراحت ثابت ہے ۔ پس اسی سے مصافحہ مقالات کا بھی ایک ہی ہاتھ سے (یعنی داہنے ہاتھ سے )مسنون ہونا ثابت ہوا۔ کما مر چھٹی روایت صحیح بخاری میں عبد اللہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔