کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 168
واضح ہو کہ دسویں اور گیارہوں روایت میں اگرچہ داہنے ہاتھ کی تصریح نہیں ہے۔ مگر روایاتِ مذکورہ بالابتاتی ہیں کہ ان دونوں روایتوں میں ایک ہاتھ سے مراد داہنا ہاتھ ہے۔ نیز واضح ہو کہ بیعت کی روایت مذکورہ میں بعض روایتیں استشہاد اً پیش کی گئی ہیں۔ نیز واضح ہو کہ مصافحہ بیعت کے ایک ہاتھ سے مسنون ہونے کے بارے میں اور بھی بہت سی روایاتِ مررفوعہ وموقوفہ آئی ہیں اور جس قدر یہاں نقل کی گئی ہیں۔ وہ اثباتِ مطلوب کے واسطے کافی ووافی ہیں۔ بارہویں روایت کتاب الترغیب والترہیب (ص۶۸۵ج۳) میں ہے۔ عن سلمان الفارسی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان المسلم اذا لقی اخاہ فاخذ بیدہ تتحانت عنھما ذنوبھما کما یتحات الورق عن الشجر الیابسۃ فی یوم ریح عاصف رواہ الطبرانی باسناد حسن۔ یعنی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روای تہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان اپنے بھائی سے ملاقات کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکرتا ہے تو ان دونوں کے گناہ اس طرح جھڑڑتے ہیں جس طرح سخت ہوا کے دن سوکھے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ اس حدیث کو طبرانی نے باسناد حسن روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے بھی ایک ہاتھ سے مصافحہ کا مسنون ہونا ظاہر ہے،کیونکہ اس میں لفظ ’’ید‘‘ بصیغۃ واحد ہے اور صیغہ واحد فرد واحد پر دلالت کرتا ہے۔ واضح ہو کہ مصافحہ کی جن جن حدیثوعں میں لفظ’’ید‘‘ واقع ہوا ہے بصیغہ واحد ہی واقع ہوا ہے ۔مصافحہ کی کسی حدیث میں لفظ’’ید ‘‘بصیغہ تثنیہ نہیں واقع ہوا ہے۔ ومن ادعی خلافہ فعلیہ البیان پس اس قسم کی تمام احادیث ہمارے مدعا کی مثبت ہیں۔