کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 170
نہیں ہے کیونکہ الف ولام اصل عہد ہے۔ تیسرا جواب اگر فرض کیا جائے کہ ان احادیث میں لفظ ’’ید‘‘ جو معرف بہ لام یا مضاف واقع ہے اس میں الف ولام یا اضافت عہد کے واسطے نہیں ہے تو بھی ان احادیث میں لفظ ’’ید‘‘ کو داہنے ہاتھ پر محمول کرنا متعین ہے۔ کیونکہ مصافحہ بیعت میں داہنے ہاتھ کی تصریح متعدد حدیثوں میں آئی ہے۔ اور مصافحہ بیعت اور مصافحہ ملاقات دونوں کی حقیقت ایک ہے۔ کما مر اور مصافحہ ملاقات کا بھی داہنے ہاتھ سے مسنون ہونے کا ثبوتت تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے۔ پس ان احادیث میں لفظ ’’ید‘‘ سے دونوں ہاتھ مراد لینا یا بایاں ہاتھ مراد لینا ہر گز صحیح نہیں ہے۔ دیکھو اکثر احادیث قطع ید میں بھی لفظ ید مضاف یا معرف بہ لا م واقع ہوا ہے جیسے لا تقطع ید السارق (متفق علیہ)( بخاری:ص۱۰۰۳ج۲ ،مسلم ۶۳ج۲) اور حدیث قطع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ید السارق الخ(متفق علیہ)(بخاری:ص ۱۰۰۳ج۲،مسلم ص۶۳ج۲) اور حدیث لعن اللہ السارق یسرق البیضۃ فتقطع یدہ الخ(متفق علیہ) (بخاری :ص ۱۰۰۳ج۲،مسلم :ص ۶۴ج۲) اورر حدیث لا تقطع الید الا فی الدینار الخ(طحاوی) اورحدیث کان یقطع الیدعلی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی عشۃ دراھم (مسند امام ابو حنیفہ:ص ۱۵۷) مگر بالاتفاق ان احادیث میں لفظ ’’ید‘‘ سے داہنا ہاتھ ہی مراد ہے۔ اور دونوں ہاتھ یا بایاں ہاتھ مراد لینا ہر گز ہرگز صحیح نہیں ہے۔ اور اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ مگر یہی کہ بعض احادیث قطع ید میں داہنے ہاتھ کی تصریح آئی ہے۔ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں فاقطعوا ایما نھما واقع ہے۔