کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 173
مروج ہے اوراس کے ثبوت میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت علمنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکفی بین کفیہ التشھد بخاری(ص۹۶۲ج۲) پیش کی جاتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کے بطنِ کف کو داہنے ہاتھ کے بطنِ کف سے بائیں ۔۔۔۔ہاتھ کے بطنِکیف کو بائیں ہاتھ کے بطنِ کف سے ملایا جائے۔ اور مصافحین میں سے ایک کے دنوں ہاتھ بطور مقراض کے ہوں۔ اس مقراضی صورت کا مصافحہ اس زمانہ کے بعض احناف میں رائج ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت میں فقط داہنے ہاتھ کے بطنِ کف کو داہنے ہاتھ کے بطنِ کف سے ملانے پر مصافحہ کے معنی صادق آتے ہیں اور باقی زائد ہے۔ جس کو مصافحہ سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ رہی دوسری صورت۔ سواولاً: اس کو پہلی صورت کے قائلین کی دلیل مذکور باطل کرتی ہے۔ ثانیاً: یہ مقراضی مصافحہ ایک مصافحہ نہیں ہے،بلکہ دو مصافحہ ہے ۔کیونکہ داہنے ہاتھ کا بطنِ کف داہنے ہاتھ کے بطنِ کف سے ملتا ہے۔ اور اس پر مصافحہ کی تعریف الا نضا ء بصفحۃ اللید الی صفحۃ الید صادق آتی ہے ۔لہٰذا یہ ایک مصافحہ ہوا اور بائیں ہاتھ کا بطنِ کف بائیں ہاتھ کے بطنِ کف سے ملتا ہے اور اس پر بھی مصافحہ کی تعریف صادق آتی ہے لہٰذا یہ بھی ایک مصافحہ ہوا۔ پس مقراضی مصافحہ میں بلاشبہ دو مصافحے ہوتے ہیں۔ اور اگر چہ مصافحہ کے جو معنی اہلِ لغت نے بیان کیے ہیں۔ شرع نے اس سے دوسرے معنی کی طرف نقل نہیں کیا ہے۔ لیکن شرع نے مصافحہ کے لیے داہنے ہاتھ کو ضرور متعین کیا ہے،جیسا کہ روایاتِ مذکورہ بالا سے واضح ہے ۔ بناء علیہ اس مقراضی مصافحہ میں بائیں ہاتھ کے بطنِ کفف کو بائیں ہاتھ کے بطنِ کف سے ملانا محض بیکار اور بے سود ہے اور اس میں اصل مصافحہ وہی داہنے ہاتتھ کے بطنِ کف کو داہنے ہاتھ کے بطنِ کف سے ملانا ہے۔ ہمارے اتنے بیان سے صاف ظاہر ہوا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث مذکور سے ونیز تمام ان احادیث سے جن میں مطلق مصافحہ کا ذکر ہے اور یداور کف کی تصریح نہیں ہے۔ ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے۔ فتفلر وتدبر