کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 174
ہم نے ایک ہاتھ کے مصافحہ کی سنیت کے اثبات میں تیرہ روایتیں پیش کی ہیں۔ ان کے سوا اور بھی روایتیں ہیں۔ لیکن اس قدر اثباتِ مطلوب کے لیے کافی ووافی ہیں۔ اب ہم ایک ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون یا مستحب ہونے کے متعلق علماء وفقہاء کے چند اقوال بیان کر دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ ایک ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون یا مستحب ہونے کے متعلق علمائوفقہاء کے اقوال علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا قول آپ بنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں۔ واتفق العلما علی انہ یستحب تقدیم الیمنٰیفی کل ماھو من باب التکریم کالوضوء والغسل ولبس اثوبب و انعل الخف واسراویل ودخول ودخول المسجد والسوااک والا کتحال وتقلیم الاظفار وقص الشارب ونتف الابط وحلق الراس واسلام من الصلوٰۃ والخروج من الخلاء والا کل والشرب والمصافحۃ واستلام الحجر والاخذ والعطاء وغیر ذلک مما ھو فی معنا ہ ویستحت تقدیم الیسار فی ضد ذلک انتھٰی۔ یعنی علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام ان امور میں جو بات تکریم سے ہیں۔سے ہیں۔ داہنے کا مقدم کرنا مستحب ہے ،جیسے وضو اور غسل کرنا اور کپڑا اور جوتا اور موزہ اور پاجامہ پہننا اور مسجد میں داخل ہونا اور مسواک کرنا اور سرامہ لگانا اور ناخن اور لب کے بال تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا اور سرمونڈنا اور نماز سے سلام پھیرنا اور پائخانہ سے نکلنا اور پینا اور مصافحہ کرنا اور حجرا سود کا بوسہ