کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 177
افضل ہے۔ اب ہم آخر میں جناب قطبِ ربانی مولانا شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (جو پیران پیر کے لقب سے مشہور ہیں اور جن کا ایک عالم ارادت مند ہے۔) کا قول نقل کر کے پہلے باب کو ختم کرتے ہیں۔ جناب قطبِ ربانی مولانا شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول آپ اپنی بے نظیر کتاب غنیۃ الطالبین میں لکھتے ہیں۔ فصل فیمایستحب فعلہ بیمینہ وما یستحب فعلہ بشمالہ یستحب لہ تناول الاشیاء بیمینہ والا کل و الشرب والمصافحۃ والبدائۃ بھا فی الوضوء والا نتعال ولبس الثیاب وکذلک یبداء فی الدخول الی المواضع البمارک کا لمساجد والمشاھد والمنازل والدوربرجلہ الیمنی واما الشمال فلفعل الاشیاء المستقذرۃ وازالۃ الدرن والا ستنثار والا ستنجاء وتنقیۃ الانف وغسل انجاسات کلھا الا ان یشق ذلک اویتعذر کا لمشلول و المقطوع یسارہ فیفعلہ بیمینہ انتھٰی(ص۵۲) یعنی یہ فصل ہے ان امور کے بیان میں جن کا داہنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے اور ان امور کے بیان میں جن کا بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے۔ مسلمان کے لیے چیزوں کو لینا اور کھانا اور پینا اور مصافحہ کرنا داہنے طرف سے شروع کرنا مستحب ہے اور سی طرح متبر ک مقامات جیسے مسجد اور مجلس اور منزل اور گھر میں داخل ہونے میں داہنے پر سے شروع کرنا چاہیے۔ اور لیکن بایاں ہاتھ سوان چیزوں کے کرنے کے لیے ہے۔ جو مستقذر ہیں اور میل کے دور کرنے کے لیے جیسے ناک جھاڑااور استنجا ء کرنا اور ناک صاف کرنا اور تمام نجاستوں کا دھونا،مگر جس صورت میں بائیں ہاتھ سے ان کاموں کا کرنا دسوار ہو یا نہ ہو سکے، جیسے وہ شخص جس کا بایاں ہاتھ شل ہو گیا ہو یا وہ شخص جا کا بایاں