کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 179
دوسرا باب دو ہاتھ سے مصافحہ والوں کی دلیلوں کے جواب میں پہلی دلیل صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ عملنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکفی بین کفیہ التشھد یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد کی تعلیم ایسی حالت میں دی کہ میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی۔ اس دلیل کے چار جواب ہیں۔ پہلا جواب قول ابن مسعود رضی اللہ عنہ (وکفی بین کفیہ)میں لفظ’’ کفی‘‘ سے ظاہر یہ ہے کہ ان کی فقط ایک ہتھیلی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ حالتِ تعلیم تشہد میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فقط ایک ہتھیلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں میں تھی۔ کیونکہ ’’کفی‘‘ میں لفظ کف مفرد ہے اور مفرد فردواحد پر دلالت کرتا ہے۔ ونیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کف کو بصیغہ وتثنیہ اور اپنے کف کو بصیغہ مفرد ذکر نا بھی ظاہر دلیل اسی امر کی ہے کہ لفظ’’کفی‘‘ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک ہی ہتھیلی مراد ہے۔ ونیز ابن مسعود کی اگر دونوں ہتھیلیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں متبرک ہتھیلیوں میں ہوتیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ ضرور اس کی تصریح فرماتے اور اہتمام اور اعتناء کے ساتھ،بلکہ فخر کے ساتھ فرماتے وکفای بین کفیہ یعنی میری دونوں ہتھیلیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی۔ اس صور ت میں وکفی بین کفیہ کہنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ ونیز ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی غرض وکفی بین کفیہ سے اس حالت اور وضع کا بتانا ہے جس حالت اور وضع کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تشہد کی تعلیم دی تھی۔پس اگر تعلیم تشہد کے وقت حالت یہ تھی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی دونوں ہتھیلیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھیں تو ابن مسعود وکفای بین کفیہ فرماتے کیونکہ خاص اس حالت پر لفظ وکفی بین کفیہ صراحۃً ونصاً دلالت نہیں کرتا۔