کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 185
یعنی ابو قتادہ اور ابو الدہماء کہتے ہیں کہ ہم دونوں ایک بدوی شخص کے پاس آئے تو اس بدوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ۔ پس مجھے تعلیم کرنے لگے۔ ان باتوں کی جن کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی تھی۔ اور کہ جب تو اللہ تعالیٰ کے ڈر سے کسی چیز کو چھوڑ دے گا تو ضرور اللہ تعالیٰ اس چیز سے بہتر کوئی چیز تجھے عطا کرے گا۔ اگر کوئی کہے(کما قال بعض الاحناف) کہ صحیح بخاری سے دونوں ہاتھ کا مصافحہ ثابت ہے اس واسطے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں لکھا ہے۔ باب الاخذ بالیدین وصانح عماد بن زید ابن المبارک بیدیہ۔ یعنی باب دونوں ہاتھوں کے پکڑنے کے بیان میں اور حماد بن زید نے ابن المبارک سے اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا پھر اس کے بعد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث مذکور کو ذکر کیا ہے۔ پس جب صحیح بخاری میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس باب سے دونوں ہاتھ سے مصافحہ ثابت ہے۔ تو اس کے قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ تو اس کے دو جواب ہیں۔ پہلا جواب یہ ہے کہ بخاری کے اس باب میں تین امر مذکور ہیں۔ (۱) ایک امام بخاری کی تبویب یعنی امام بخاری کا یہ قول کہ باب دونوں ہاتھ کے پکڑنے کے بیان میں۔ (۲) دوسرے حماد بن زید کا اثر (۳) تیسرے ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثِ مذکور امام بخاری کو مجروتبویب سے دونوں ہاتھ کے مصافحہ کا ثابت نہ ہونا ظاہر ہے۔ کیونکہ مصنفین کی تبویب ان کا دعویٰ ہوتا ہے جو بلادلیل کسی طرح قابل قبول نہیں۔ اس کے علاوہ مجرد دونوں ہاتھوں کے پکڑنے سے