کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 187
الاخذ بالیدین منعقد کیا ۔ اور بالفرض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مقصود ہو بھی تو یہ مقصود کسی حدیث مرفوع صحیح صریح ہے ہر گز ہرگز ثابت نہیں پس یہ کہنا کہ صحیح بخاری سے دونوں ہاتھ کا مصافحہ ثابت ہے۔ سراسر غلط ہے۔ دوسری دلیل عن الحکم قال سمعت ابا جحیفۃ قال خرج رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالھاجرۃ الی البطحاء فتوضا ثم صلی الظھر رکعتین والعصر رکعتین وبین یدیہ عنز ۃ قال شعبۃ وزادفیہ عون عن ابیہ عن ابی جحیفۃ وقال کان تمر من ورائھا المراۃ وقام الناس مجعلوا یاخذون یدیہ فیمسحون بھما وجوھھم قال فاخذ ت بیدہ فوضعتھاعلی وجھی فاذا ھی ابرد من الثلج واطیب رائحۃ من المسک رواہ البخاری۔ (ص۵۰۲ج۱) خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ حکم نے کہا کہ میں نے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کو بطحاء کی طرف نکلے پس وضو کیا پھر ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی اور عصر کی نماز دو رکعت ۔ اور آپ کے آگے نیز ہ تھا اور لوگ کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے مونہوں پر ملنے لگے۔ ابو حجیفہ نے کہا پھر میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے مہ پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔ روایت کیا اس کو بخاری نے۔ جواب اس حدیث کو مصافحہ سے کچھ تعلق نہیں ہے اور اس حدیث میں جو یہ مذکور ہے کہ صحابہص ظہر اور عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے مونہوں پر ملنے لگے۔ سو ظاہر ہے کہ صحابہص کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو پکڑنا اس غرض سے تھا کہ ان متبرک اور برف سے زیادہ ٹھنڈے اور مشک سے زیادہ