کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 188
معطر ہاتھوں کو تبرکاً اپنے مونہوں اور گالوں سے لگائیں اور جو لوگ اس کو مصافحہ خیال کرتے ہیںں ان کا یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے۔ اتنا بھی وہ نہیں سوچتے کہ مصافحہ کا یہ کون سا وقت تھا۔ تیسری دلیل عن ابی امامۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا تصافح المسلمان لم تفرق اکفھا حتی یغفر لھما رواہ الطبرانی ۔ یعنی ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جب دو مسلمان باہم مصافحہ کرتے ہیں توا نھیں جدا ہوتیں ہتھیلیاں ان کی یہاں تک کہ مغفرت کی جاتی ہے ان دونوں کے واسطے روایت کیا اس کو طبرانی نے اس حدیث میں محلِ استدلال لفظ اکفھما سے استدلال کر تقریر یوں کی جاتی ہے کہ’’کف‘‘ جمع کف کی ہے اور جمع کا اطلاق تین سے کم پر نہیں آتا ۔اور تین اور تین سے زیادہ پر آتا ہے پس اکفہما کے معنی جبھی ٹھیک ہوں گے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کیا جائے کہ دونوں مصافحہ کرنے والے کی دو دو ہتھیلیاں مل کر چار ہو جائیں گی۔ اور اگر ایک ہاتھ سے مصافحہ مسنون ہوتا تو بجائے اکفہما کے’’کفا ہما‘‘ بصیغہ تثنیہ وارد ہوتا ہے۔ اس کی دلیل کے دو جواب ہیں۔ پہلا جواب یہ حدیث ضعیف ہے قابلِ احتجاج نہیں۔ علامہ عزیزی رحمۃ اللہ علیہ شرح جامع صغیر میں اس حدیث کی نسبت میں لکھتے ہیں۔ قال الشیخ حدیث ضعیف یعنی کہا شیخ نے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اور علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ شرح جامع صغیر میں