کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 189
لکھتے ہیں۔ قال الھیثمی فیہ مھلب بن العلاء لم اعرفہ وبقیۃ رجالہ ثقات یعنی ہیثمی نے کہا کہ اس حدیث کی سند میں مہلب بن العلاء واقع ہیں ۔ اور میں ان کو نہیں پہنچانتا اور ان کے سوا باقی راوی ثقہ ہیں۔ دوسرا جواب جو لوگوں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون ہونے پر استدلال کیا ہے۔ ان کو اس حدیث کے لفظ’’اکفہما‘‘ سے سخت دھوکا ہو گیا ہے اور ان سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے قول قد صغت قلوبکما من لفظ قلوب بصیغہجمع دیکھ کر یہ دعویٰ کرے کہ ہر شخص کے سینے میں دو دل ہوتے ہیں اور اس کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ کے اسی قول کو پیش کرے اور تقریر استقلال وہی کرے جو اکفہما میں کی گئی ہے،یعنی کہے کہ جمع کا اطلاق تین سے کم پر نہیں ہوتا۔ پس’’فلوبکما‘‘ کے معنی جبھی ٹھیک ہوں گے کہ ہر شخص کے سینہ میں دودل ہوں کہ دو شخصوں کے دو دو دل مل کر چار دل ہو جائیں۔ اور اگر ہر شخص کے سینہ میں ایک ہی دل ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے قول میں بجائے’’قلوبکما‘‘ کے قلبا کما بصیغہ تثنیہ وارد ہوتا کیا اس شخص کی اس تقریر سے اس کا یہ دعویٰ ثابت ہو سکتا ہے۔ کہ ہر شخص کے سینہ میں دو دل ہوتے ہیں۔ حاشا وکلا قال اللہ تعالیٰ {ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ} وقال قائل ہم معتقد دعویٰ باطل نہیں ہوتے سینے میں کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے۔ جن لوگوں نے لفظ ’’اکفہما‘‘ سے استدلال کیا ہے ان کے دھوکے میں