کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 198
سو ظاہر ہے کہ انھی بعض کتابوں سے لکھا ہے۔ ثالثاً: ان فقہاء نے دو ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون ہونے کے ثبوت میں کوئی دلیل پیش نہیں کی ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا قول بلادلیل حجت نہیں۔ پس ان بعض فقہائِ متاخرین کے قول بلا دلیل سے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کی سنیت ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور پہلے باب میں متعدد حدیثیں لکھیں گئی ہیں۔ جن سے ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کا مسنون ہونا بصراحت ثابت ہے۔ پس اب ہم ان حضرات سے جنھوں نے ان فقہاء کے اقوال سے احتجاج کیا ہے۔ دریافت کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ ایک ہاتھ کے مصافحہ کی حدیثوں کو چھوڑنا اور ان فقہائِ متاخرین کے قول بلا دلیل پر عمل کرنا یہ نفس پر ستی ہے یا ان فقہاء کے قول کو چھوڑنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں پر عمل کرنا نفس پرستی ہے۔ ایمان سے فرماتے جائیں۔ ساتویں دلیل وہی مستدل صاحب فرماتے ہیں کہ مصافحہ قربتِ مقصود ہے پس دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا اولیٰ وارجح ہو گا۔ کیونکہ قربت میں جتنے اعضاء شریک ہوں گے۔ وہ اجر کے مستحق ہوں گے۔ پس بلاعذر شرعی کے ایک ہاتھ کو ایسے کارِ خیر سے محروم رکھنا قساوتِ قلبی کے سوا اور کیا کہ جواب ماشاء اللہ کیا معقول دلیل ہے۔ سبحان اللہ کیا انوکھی فقاہت ہے اب تو ہمارے مستدل صاحب مصافحہ میں سر کو بھی ملالیا کریں گے۔ بلکہ پیر وغیرہ جن اعضاء کا مصافحہ میں شریک کرنا ممکن ہے۔ بھی ضرور شامل کر لیا کریں گے۔ ورنہ ان اعضاء کو ایسے کارِ خیر سے محروم رکھ کر قسی القلب ٹھہریں گے۔ کدھر ہیں علمائِ حنفیہ ذرا ہمارے مستدل صاحب سے دریافت فرمائیں کہ