کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 204
یقول ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سنن کبریٰ میں لکھتے ہیں۔ والحدیث المسند مع ما علیہ من عمل المسلمین اولی ان یتبع یعنی نمازِ عیدین میں بارہ تکبیریں کہنے کی حدیث مسند آئی ہے۔ اور اسی پر عام مسلمان کا عمل ہے۔ پس اس حدیث مسند کے مطابق عمل کرنا اولیٰ ہے،جبکہ عام مسلمانوں کا بھی اسی پر عمل ہے اور فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے۔ وظھر عمل العامۃ الیوم بقول ابن عباس یعنی آج عام مسلمانوں کا عمل ابن عباس کے قول پر یعنی بارہ تکبیروں پر ہے۔ سوال2: کیا کسی روایت سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ خلفائِ راشدین یعنی حضرت ابو بکراور حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل کس پر تھا بارہ تکبیروں پر چھ تکبیروں پر؟ جواب: ہاں مصنف عبد الرزاق کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفائِ راشدین رضی اللہ عنہ کا علم بارہ تکبیروں پر تھا، اِس روایت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نمازِ عیدین میں بارہ تکبیریں کہتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمر اورص نمازِ عیدین میں بارہ تکبیریں کہتے تھے۔ اس روایت کی تائید عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے جس کو بزار نے رواتی کیا ہے۔ ان دونوں روایتوں کے الفاظ پہلے باب میں نقل کئے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بارہ تکبیروں کے خلاف دو روایتیں اور آئی ہیں۔ جو بواسطہ حارث اعور کے منقول ہیں۔ اور یہ حارث اعور وہ شخص ہیں جن کو ابن المدینی اور شعبی نے کذاب کہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں روایتوں پر نہ اہلِ حدیث کا عمل ہے اور نہ حنفیہ کا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت چھ تکبیریں کہنے کی آئی ہے ،جو بواسطہ عامر کے منقول ہے ۔غالباً یہ عابر بن شعبی ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم سوال3: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بہت بڑے متبع سنت تھے۔ اتباعِ سنت میں آپ کا تشددمشہور ہے، آپ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا۔ یا کبھی آپ سے چھ تکبیروں پر عمل کرنا بھی مروی ہے؟