کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 205
جواب: آپ کا عمل بارہ ہی تکبیروں پر تھا آپ سے کبھی چھ تکبیروں پر عمل کرنا مروی نہیں ہے۔ دیکھو شرح معانی الآثار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم سوال4: مدینہ مکرمہ میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد سے آخر عمر تک نمازِ عیدین پڑھائی ہے، اہلِ مدینہ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا یا چھ تکبیروں پر۔ نیز اہلِ مکہ کا علم کس پر تھا۔ مختصراً زمانہ سلف میں اہلِ حرمین شریفین کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا یا چھ تکبیروںپر۔؟ جواب:اہلِ مدینہ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا۔ مؤطا امام مالک میں ہے۔ عن نافع مولی عبد اللہ بن عمر انہ قال شہدت الاضحی و الفطر مع ابی ھریرۃ فکبر فی الرکعۃ الاولیٰ سبع تکبیرات قبل القرأۃ وفی الاخرۃ خمس تکبیرات قبل القراۃ قال مالک وھو الامر عند نا ۔یعنی نافع کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بقرعید اور عید فطر کی نمازوں میں حاضر ہوا ۔پس انھوں نے پہلی رکعت میں قبل قرأت کے سات اور دوسری رکعت میں قبل قرأت کے پانچ تکبیریں کہیں۔ امام مالک نے کہا کہ ہمارے یہاں یعنی مدینہ منورہ میں اِ سی پر عمل ہے۔ جامع ترمذی میں ہے۔ وھو قول اہل المدینۃ یعنی اہلِ مدینہ کا عمل بار ہ تکبیروں پر ہے اور اہلِ مکہ معظمہ کا عمل بھی بارہ ہی تکبیروں پر تھا ۔ خلاصہ یہ کہ زمانہ سلف میں اہلِ حرمین شریفین کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سنن کبریٰ میں لکھتے ہیں: نخالفہ فی عد د التکبیرات و تفدیمھن علی القراء ۃ فی الرکعتین لحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم فعل اھل الحرمین وعمل المسلمین الی یو منا ھذا ۔ چونکہ بارہ تکبیروں کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ہے اور ہمارے زمانہ تک اہلِ حرمین شریفین اور عامہ مسلمین کا عمل بھی بارہ ہی تکبیروں پر ہے۔ اِ س لیے ہم لوگوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے چھ تکبیروں کے قول کی مخالفت کی ہے اور بارہ تکبیروں کے قائل ہوئے ہیں۔